اقوام متحدہ کی تنظیم کے مطابق ۱۹۶۱ء کے بعد سے زمینی جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراککی عالمی فراہمی میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، جس میں خاص طور پر انڈے، مرغی اور سور کا گوشت شامل ہے۔
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 4:01 PM IST | Washington
اقوام متحدہ کی تنظیم کے مطابق ۱۹۶۱ء کے بعد سے زمینی جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراککی عالمی فراہمی میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، جس میں خاص طور پر انڈے، مرغی اور سور کا گوشت شامل ہے۔
اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم (FAO) نے بتایا کہ۱۹۶۱ء کے بعد سے زمینی جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک کی عالمی فراہمی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کی ایک نئی تحقیق سے جمعہ کو یہ بات سامنے آئی کہ گزشتہ ساٹھ سالوں میں عالمی سطح پر گوشت کی فراہمی چار گنا بڑھ چکی ہے۔FAO نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ زمینی جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک (TASF) کی عالمی فراہمی میں، جس میں خاص طور پر انڈے، مرغی اور سور کا گوشت شامل ہے، گزشتہچھ دہائیوں میں نمایاں طور پراضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان:معمر ترین شیر ’’کائی‘‘ ۲۰؍ برس کی عمر میں فوت، فوکوکا چڑیا گھر میں سوگ
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ TASF میں اس توسیع نے مویشی پالنے کو زرعی شعبے کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا حصہ بنا دیا ہے۔FAO کے مطابق اس تحقیق میں TASF کی عالمی طلب اور رسد کا جائزہ لیا گیا، جس میں پستانئے ، پرندوں اور کیڑوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ۱۹۶۱ء اور۲۰۲۲ء کے درمیان TASF کی عالمی فراہمی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ جبکہ مرغی کے گوشت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جو تقریباً پانچ گنا ہو گیا، اس کے بعد انڈے اور سور کا گوشت ہے، یہ دونوں تقریباً دگنے ہو گئے، جب کہ بڑے جانوروں (گائے، بھینس) کا گوشت بہت سے خطوں میں مستحکم رہا یا کم ہوا۔‘‘
رپورٹ کے مطابق۲۰۲۲ء میں TASF کی عالمی پیداوار۳۶۱؍ ملین ٹن گوشت تک پہنچ گئی، جب کہ۱۹۶۱ء میں یہ تقریباً۷۱؍ ملین ٹن تھی۔اسی طرح دودھ کی پیداوار تقریباً ۳۴۲؍ ملین ٹن سے بڑھ کر ۹۳۰؍ ملین ٹن ہو گئی، جب کہ انڈوں کی پیداوار تقریباً۱۵؍ ملین ٹن سے بڑھ کر۹۴؍ ملین ٹن ہو گئی۔ FAO نے کہا کہ "ایشیا اب زمینی جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک کا سب سے بڑا پیدا کرنے والا خطہ ہے، اس کے بعد یورپ کا نمبر آتا ہے۔ تاہم، پیداوار کے رجحانات کا مطلب یہ نہیں کہ ہر جگہ دستیابی بھی اتنی ہی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کے گرمی سے متاثر ۵۰؍ شہروں میں سب سے زیادہ ہندوستان میں: تحقیق
تاہم رپورٹ کے مطابق فی کس فراہمی شمالی امریکہ میں سب سے زیادہ ہے، جب کہ ایشیا میں فی شخص دستیابی نسبتاً کم ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ "خوراک کا نقصان اور ضیاع اس تفاوت کو مزید بڑھاتے ہیں اور پائیداری کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہیں۔واضح رہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی کل خوراک کا تقریباًایک تہائی حصہ ضائع یا برباد کر دیا جاتا ہے، جس میں TASF کا تقریباً ۱۴؍ فیصد حصہ شامل ہے۔