• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میلان ونٹر اولمپکس ۲۰۲۶ء: ملازم برطرف، اظہارِ رائے پر بحث

Updated: February 16, 2026, 9:54 PM IST | Milan

میلانو کورٹینا ۲۰۲۶ء اولمپکس کے سرکاری تجارتی آؤٹ لیٹ پر کام کرنے والے ایک ملازم کو مبینہ طور پر اسرائیلی حامیوں کو ’’آزاد فلسطین‘‘ کہنے کے بعد برطرف کر دیا گیا۔ اس واقعے نے کھیلوں کے عالمی مقابلوں میں آزادیٔ اظہار اور سیاسی غیرجانبداری کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اٹلی میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس میلانو کورٹینا ۲۰۲۶ء میں ایک واقعے نے سوشل میڈیا اور کھیلوں کی دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اولمپک تجارتی سامان کی ایک سرکاری دکان میں کام کرنے والے ملازم علی محمد حسن کو ایک کشیدہ صورتحال کے دوران ’’آزاد فلسطین‘‘ کہنے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایک سرکاری آؤٹ لیٹ میں پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر اسرائیل کے حامی افراد کے ساتھ تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اسی دوران ملازم نے ’’آزاد فلسطین‘‘ کا نعرہ لگایا، جس کے بعد منتظمین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے اس کی شفٹ سے ہٹا دیا اور بعد ازاں برطرفی کا فیصلہ کیا۔ منتظمین نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا مقصد ’’غیر جانبدار، باعزت اور خوش آئند ماحول‘‘ کو برقرار رکھنا ہے۔ ان کے مطابق، اولمپک مقامات پر سیاسی نعرے یا کسی بھی قسم کی کشیدگی کھیلوں کی روح کے منافی ہے، اس لیے فوری اقدام اٹھایا گیا۔ تاہم انہوں نے واقعے کی مکمل تفصیلات عام نہیں کیں۔

اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر آزادیٔ اظہار اور کھیلوں کی سیاسی غیرجانبداری کے موضوع پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ ملازم نے ذاتی رائے کا اظہار کیا اور اسے اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، عالمی کھیلوں کے ایونٹس میں شرکت کرنے والے ممالک کے سیاسی پس منظر کے باوجود کھلاڑیوں اور عام ملازمین کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ اولمپکس جیسے عالمی مقابلوں میں سیاسی بیانات یا نعرے بازی ماحول کو متاثر کر سکتی ہے اور ایونٹ کی غیرجانبدار حیثیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منتظمین کا فیصلہ ایونٹ کی ساکھ اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ترکی کےوزیر خارجہ کی غزہ کی انتظامیہ کی قومی کمیٹی کے سربراہ سے ملاقات

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل کو جاری تنازع کے باوجود بین الاقوامی کھیلوں میں شرکت کی اجازت دیے جانے پر بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کچھ صارفین نے اس واقعے کو اس وسیع تر بحث سے جوڑا ہے کہ آیا کھیلوں کے عالمی ادارے سیاسی تنازعات کے حوالے سے یکساں معیار اپناتے ہیں یا نہیں۔ اولمپک چارٹر عمومی طور پر کھیلوں کے میدان اور سرکاری مقامات پر سیاسی، مذہبی یا نسلی نوعیت کے مظاہروں پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اسی اصول کے تحت منتظمین اکثر ایسی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں جو ایونٹ کی غیرجانبدار فضا کو متاثر کر سکتی ہوں۔ تاہم آزادیٔ اظہار کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس اصول کی تشریح اور اطلاق کے حوالے سے شفافیت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK