Updated: June 28, 2026, 10:16 AM IST
| Jaipur
وزیر مملکت برائے زراعت بھاگیرتھ چودھری خود ہی اُس بورڈ کے نائب صدر بھی ہیں جس نے ان کے پروجیکٹ کو منظوری دی، بدعنوانی کا سنگین الزام مگر مودی کے وزیر نے صفادی کہ ’’میں کسان ہوں اور بچپن سے کسانی کررہا ہوں ‘‘، کانگریس نے نشانہ بنایا، کہا: مودی نے اپنے وزیروں کو چھوٹ دے رکھی ہے کہ خود کھاؤ، مجھے بھی کھلاؤ۔
وزیر مملکت برائے زراعت بھاگیرتھ چودھری۔تصویر: آئی این این
بدعنوانی کے ایک تازہ معاملے میں مودی سرکار کے وزیر مملکت برائے زراعت بھاگیرتھ چودھری کے تعلق سے ’انڈین ایکسپریس ‘ نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ وزیر نے اپنی ہی وزارت سے ککڑی کی کھیتی کیلئے ۹۹؍ لاکھ کی سبسیڈی حاصل کی۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ سبسیڈی کیلئے ان کی درخواست کو جس بورڈ نےمنظوری دی ہے، اس بورڈ کے نائب صدر خود وزیربھاگیرتھ چودھری ہیں۔ مفادات کے اس ٹکراؤ پر جب اپوزیشن نے سوال اٹھایا اور بدعنوانی کا الزام لگایا تو ان کا جواب تھا کہ ’’ہزاروں کسان فائدہ لیتے ہیں، میں بھی کسان ہوں ، میں نے بھی لیا۔ ‘‘
بھاگیرتھ کو سبسیڈی مفادات کا ٹکراؤ
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب انڈین ایکسپریس نے انکشاف کیا کہ بھاگیرتھ چودھری نے زراعت اور کسانوں کی بہبود کی مرکزی وزارت کے تحت چلنےوالے قومی باغبانی بورڈ کی اسکیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئےککڑی کی کھیتی کیلئے ۵۰؍ فیصد سبسیڈی (۹۹؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار روپے) حاصل کی۔ انہیں ۳؍ماہ قبل ان ہی کی وزارت کے تحت چلنے والی سرکاری اسکیم کے ذریعہ یہ سبسیڈی ملی ہے۔ تجارت کیلئے بڑے پیمانے پر سبزیوں اور پھولوں کی کاشت کو فروغ دینے کی یہ اسکیم’’مشن فار اِنٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ہارٹیکلچر‘‘ کے تحت چلائی جا رہی ہے۔
اس اسکیم کے تحت شملہ مرچ، ککڑی، ٹماٹر اور آٹھ اقسام کے پھولوں کی تجارتی کاشت کے منصوبوں پر لاگت کا زیادہ سے زیادہ۵۰؍ فیصد یا ایک خاندان کو زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے تک سبسڈی دی جاتی ہے۔ بھاگیرتھ چودھری کا منصوبہ۱۶؍ ہزار۵۹۲؍ مربع میٹر رقبے پر ککڑی کی کاشت سے متعلق ہے ۔ ۲۶-۲۰۲۵ءمیں اس اسکیم کے تحت ۴۶۷؍ منصوبے منظور کئے گئے، جن کی مجموعی لاگت۱۴۴؍ کروڑ روپے اور رقبہ۶۷۷؍ ایکڑ تھا۔ ان میں سے۶۰؍ منصوبوں کو۵۰؍ لاکھ روپے سے زیادہ کی سبسڈی دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: کیتن اگرول قتل: سیا گوئل کے بھائی سے ۱۰؍ گھنٹے طویل پوچھ تاچھ
اپوزیشن نے وزیراعظم کو بھی نشانہ بنایا
مفاد کے ٹکراؤ کے ایسے کئی معاملات میں سابقہ یوپی اے حکومت میں وزیروں کو استعفیٰ دینا پڑا ہےمگر مودی سرکار میں اس پر کوئی جواب دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔ کانگریس نے بھاگیرتھ چودھری پر بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے ’ایکس‘ پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’مودی حکومت کے وزیر بھاگیرتھ چودھری کی بڑی بدعنوانی سامنے آئی ہے۔ وزیر مملکت برائے زراعت نے ککڑی کی زراعت کیلئےاپنی ہی وزارت سے۹۹؍ لاکھ روپے کی سبسیڈی حاصل کرلی۔ وزیر بننے کے کچھ ہی ماہ بعد یہ کھیل کیا گیا۔ ‘‘ کانگریس نے نشاندہی کی کہ ’’بھاگیرتھ نے اپریل۲۰۲۵ء میں سبسیڈی کی درخواست دی ۱۴؍دن میں منظوری بھی مل گئی۔ یہ سیدھے طور سے عہدہ کے غلط استعمال کا معاملہ ہے۔ وزیر بن کر عوام کے پیسوں کی لوٹ کا معاملہ ہے۔ ‘‘
وزیر اعظم کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے کہ ’’نریندر مودی نے اپنے وزراء کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ پیغام صاف ہے: خود کھاؤ، مجھے بھی کھلاؤ، جم کر لوٹ مچاؤ۔ ‘‘ کانگریس نے اس کے ساتھ ہی بھاگیرتھ چودھری سے استعفیٰ دینے بھی مطالبہ کیا ہے۔
بھاگیرتھ چودھری کا جواز
دوسری جانب بھاگیرتھ چودھری نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب سے پہلے کسان ہیں اور انہیں بھی دیگر کسانوں کی طرح سرکاری اسکیم کے تحت سبسڈی ملی ہے۔ چودھری نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے درخواست دی، منصوبہ متعلقہ کمیٹی سے منظور ہوا اور انہیں کسی قسم کی خصوصی رعایت نہیں دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایندھن سستا، فضائی حدود بحال رہیں تو پروازیں دوبارہ بڑھا سکتے ہیں: ایئر انڈیا
اس معاملہ کو آسان لفظوں میں یوں سمجھیں
۱) مرکزی حکومت تجارتی سطح پر پھل، سبزیاں اور پھول اگانے کیلئے ۵۰؍ فیصد تک کی سبسیٹی دیتی ہے۔
۲) بھاگیرتھ چودھری مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت ہیں۔
۳) انہوں نے راجستھان میں ککڑی کی کاشت کیلئے تقریباً۱ء۹۹؍ کروڑ روپے کا منصوبہ بنایا اور ۹۹ء۶۰؍ لاکھ روپے کی سبسیڈی حاصل کرلی۔
۴) تنازع اس لیے پیدا ہوا کہ جس وزارت کے تحت یہ اسکیم چلتی ہے، وہ اسی وزارت کے وزیر ہیں۔
۵) ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پرمفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔
۶)کانگریس اور دیگرکا مؤقف ہے کہ اس سے شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔
۷) چودھری کا جواب ہے کہ وہ وزیر ہونے کے ساتھ کسان بھی ہیں، انہوں نے مقررہ قواعد کے مطابق درخواست دی اوران کے منصوبہ کو منظوری ایک آزاد کمیٹی نے دی۔