کانگریس پارٹی شدید برہم ، وجے شاہ کو ضلع رتلام میں ہونے والی سرکاری تقریبات کیلئے مہمان خصوصی بنائے جانے پر کانگریس نے سنگین سوال اٹھائے ، بی جے پی کی جانب سے صفائی دینے کی کوشش
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 11:17 PM IST | New Delhi
کانگریس پارٹی شدید برہم ، وجے شاہ کو ضلع رتلام میں ہونے والی سرکاری تقریبات کیلئے مہمان خصوصی بنائے جانے پر کانگریس نے سنگین سوال اٹھائے ، بی جے پی کی جانب سے صفائی دینے کی کوشش
آپریشن سیندور کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی پر انتہائی متنازع تبصرہ کرنے والے مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے حکومت کو ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی ہدایت دی تھی۔ دریں اثناء یوم جمہوریہ کی تقریبات کے لیے ایم پی حکومت کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں وجے شاہ کا نام بھی شامل ہے جس پر سخت حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ وجے شاہ ضلع رتلام میں یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریبات میں مہمان خصوصی ہوں گے۔ ساتھ ہی وہ اس دن کی تمام سرکاری رسومات بھی ادا کریں گے ۔
دریں اثناءپرچم کشائی کی فہرست میں وجے شاہ کا نام دیکھ کر کانگریس پارٹی شدید برہم ہے۔ کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ وجے شاہ جیسا وزیر رتلام میں ترنگا جھنڈا لہرائے گا؟ شاہ نے آپریشن سیندور میں شامل کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے تھے، یہ ملک کی بیٹی کی توہین ہے۔ ایسے شخص جس کے بارے میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ان کی معافی کافی نہیں ہے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہئے ، اس کے باوجود بی جے پی کی موہن یادو حکومت ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہی ہے۔پارٹی کے ریاستی ترجمان نے اس سلسلے میں بی جے پی حکومت سے جواب مانگا ہے۔
ادھر بی جے پی حکومت کے فیصلہ کے دفاع میں سامنے آئی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ فہرست کافی پہلے سے تیار تھی اور پروٹوکول کے تحت ایک وزیر کو مہمان خصوصی بنایا جاتا ہے۔ بی جے پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس کو اس معاملے میں واویلا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔دراصل کرنل صوفیہ قریشی کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔ ایس آئی ٹی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے، لیکن وزیر کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اب سپریم کورٹ نے ایم پی حکومت کو وجے شاہ کے بارے میں دو ہفتے کے اندر فیصلہ کرنے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دینے کی ہدایت دی ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود حکومت نے اسے یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان خصوصی بنا کر اس پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ حالانکہ معاملہ بڑھنے پر وجے شاہ نے معافی مانگ لی تھی لیکن سپریم کورٹ نے اس معافی کو مسترد کر دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس کے معاملے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ایم پی میں معاملہ ایک بار پھر سیاسی رخ اختیار کر گیا ہے کیوں وجے شاہ کی گرفتاری کے لئے کانگریس نے احتجاج کیا تھا اور نئی ہدایات کے بعد بھی وہ مسلسل جارحانہ رخ اپنارہی ہے۔