Updated: January 27, 2026, 9:03 PM IST
| Minneapolis
امریکی شہر منیاپولس میں ایک انڈین ریستوران Curry Corner (کری کارنر) نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین کو مفت سموسے اور کھانا فراہم کیا جس کے ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے ہیں۔ اس عمل نے سوشل میڈیا پر تعریف اور تنقید دونوں کو جنم دیا ہے، اور اس واقعے نے خوراک، ثقافت اور کمیونٹی سپورٹ پر بحث کو بڑھا دیا ہے۔
امریکی شہر منیاپولس میں بڑھتی ہوئی آئی سی ای کی کارروائیوں اور سخت امیگریشن پالیسیوں کے خلاف جاری احتجاج کے دوران ایک چھوٹے ہندوستانی ریستوراں نے ایک غیر معمولی اقدام کیا ہے جس کا ویڈیو تیزی سے وائرل ہو گیا ہے۔ ’’کری کارنر‘‘ نامی یہ ریستوراں، جو شمال مشرقی منیاپولس میں واقع ہے، نے حفاظتی خدشات کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے اپنی دکان بند کر دی، لیکن اس نے مظاہرین کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار ایک مختلف طریقے سے کیا۔ دکان بند ہونے کے باوجود عملے نے مظاہرین میں گرم سموسے اور کھانا مفت تقسیم کرنا شروع کیا۔ سوشل میڈیا پر شیئر کئے گئے ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ ریستوراں کے عملے نے گلیوں میں لوگوں کو گرم سموسے، ناشتہ اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء دیں، جسے مظاہرین نے خوب پسند کیا اور کچھ نے اسے کمیونٹی کی حمایت اور بھائی چارے کی علامت قرار دیا۔ مظاہرین میں مختلف برادریوں کے لوگ موجود تھے جنہوں نے عملے کے اس جذبے کو خوش آئند قرار دیا۔
ریستوراں نے اپنے انسٹاگرام پیج پر بھی ایک پیغام شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا ریستوراں بند ہے، لیکن ہم اپنی کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔‘‘ اس میں انہوں نے واضح کیا کہ دکان بند کرنے کا مقصد اپنے عملے کی حفاظت کرنا ہے، لیکن وہ احتجاج کے دوران لوگوں کی حمایت میں باہر نکلے تاکہ انہیں گرم کھانا اور سہارا فراہم کیا جا سکے۔ یہ اقدام سوشل میڈیا پر مخلوط ردعمل کا باعث بھی بنا ہے۔ کچھ صارفین نے ریستوراں کے عملے کی اس محبت بھرے اقدام کو انسانیت اور ثقافتی سخاوت کی شاندار مثال قرار دیا، جبکہ کچھ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے اقدامات امریکہ میں ہندوستان مخالف جذبات کو ہوا دے سکتے ہیں یا اس احتجاج کی پالیسی تناظر میں فوجی یا سیاسی نقطہ نظر کا اظہار سمجھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کو اتحادی کے بجائے زیادہ تر لوگ ’’دشمن‘‘ قرار دیتے ہیں: یورپی سروے
خیال رہے کہ امریکہ بھر میں ایسے مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب آئی سی ای کی سرگرمیاں بڑھنے لگیں اور کئی افراد نے اسے امیگرنٹس کے خلاف سخت اقدامات قرار دیا۔ کری کارنر کے اقدام نے خوراک، ثقافت، احتجاج اور سیاسی حمایت کے درمیان گہرے تعلقات اور مباحثے کو اجاگر کیا ہے۔ منیاپولس میں احتجاج کے دوران ریستوران کے اقدامات نے دیگر کئی چھوٹے کاروباروں کو بھی متاثر کیا۔ بہت سے کاروبار، احتجاج کی حمایت میں یا اپنی سیکوریٹی کے پیش نظر، کچھ دیر کیلئے بند ہوئے، اور کچھ نے مظاہرین کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کیں۔