میرابھائندر میونسپل کارپوریشن نے شہر کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پانی کی تقسیم کو شفاف بنانے اور بلوں کے تنازعات کے خاتمے کے لئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔
اسمارٹ میٹر۔ تصویر:آئی این این
میرابھائندر میونسپل کارپوریشن نے شہر کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پانی کی تقسیم کو شفاف بنانے اور بلوں کے تنازعات کے خاتمے کے لئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ پیر کو منعقدہ کارپوریشن کے عام اجلاس میں شہر کی تمام سوسائٹیوں میں ’اسمارٹ واٹر میٹر‘ نصب کرنے کی قرارداد کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔
حکمراں جماعت بی جے پی کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو منظوری ملنے کے بعد شہری انتظامیہ کو آگے کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ میئر ڈمپل مہتا کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کارپوریٹرز نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی مسلسل شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے کی حمایت کی۔ میرابھائندر کی آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث پانی کی مانگ بڑھ گئی ہے۔
اس وقت شہر کو ’اسٹیم اتھاریٹی‘ اور ایم آئی ڈی سی کی جانب سے روزانہ تقریباً ۲۰۰ ؍ملین لیٹر پانی فراہم کیا جا رہا ہے جو موجودہ آبادی کے لئے ناکافی ہے۔ مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ’سوریا واٹر پروجیکٹ‘ سے ۲۱۸ ؍ملین لیٹر پانی منظور ہو چکا ہے لیکن اسکیم کے مکمل ہونے میں ابھی وقت درکار ہے۔
موجودہ صورتحال میں کئی سوسائٹیوں نے شکایت کی تھی کہ انہیں طے شدہ مقدار کے مطابق پانی نہیں مل رہا۔ متعدد سوسائٹیوں میں واٹر میٹر طویل عرصے سے خراب پڑے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو اندھا دھند اور اضافی بل بھیجے جا رہے تھے۔ عوامی حلقوں میں اس پر شدید ناراضگی پائی جا رہی تھی۔