ونچت بہوجن اگھاڑی نے وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور کمشنر کو خط لکھ کر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا، دوسری جانب مظاہرین کیخلاف ۳؍ معاملات درج،دفعہ۱۴۴؍ کی خلاف ورزی کا الزام۔
میرا روڈ میں پونم اسٹیٹ کلسٹر سوسائٹی کے سامنے پولیس اہلکار مامور نظر آر ہے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی
میرا روڈ کی پونم اسٹیٹ کلسٹر سوسائٹی میں عیدالاضحیٰ کے بکروں سے متعلق تنازع پر اب سیاسی اور سماجی حلقوں سے بھی سخت ردعمل سامنے آنے لگا ہے۔ ’ونچت بہوجن اگھاڑی‘نے اس پورے معاملے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے شہر کا امن و امان داؤ پر لگانے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وی بی اے کے لیڈروں نے الزام لگایا ہے کہ ایک چھوٹے سے رہائشی مسئلے کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس سلسلے میں ونچت بہوجن اگھاڑی کی جانب سے ریاست کے وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ، پولیس کمشنر اور چیف جسٹس کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا ہے جس میں قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف فوری اقدامات کی اپیل کی گئی ہے۔
دفعہ ۱۴۴ ؍کے باوجود بھیڑ جمع کرنے پر سوال
ونچت بہوجن اگھاڑی کے میرابھائندر کے صدر اقبال مہاڈک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’شہر میں پہلے ہی دفعہ ۱۴۴ ؍نافذ ہے جس کے تحت ۴ ؍سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔ اس کے باوجود دو دن تک سوسائٹی کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو کر ہنگامہ آرائی کرتے رہے اور مسلم خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ پولیس کو ان تمام مظاہرین اور شرپسندوں کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنی چاہئے تھی۔‘‘ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہ پر کان نہ دھریں اور شہر میں بھائی چارے کو قائم رکھیں۔
’’انتظامیہ نے عوام کو گمراہ کیا‘‘
اقبال مہاڈک نے میونسپل کارپوریشن اور پولیس انتظامیہ کی لاپروائی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’’پونم اسٹیٹ کلسٹر میں ۳۳۹ ؍مسلم اور ۳۰۳ ؍ہندو خاندان برسوں سے مل جل کر رہ رہے ہیں۔ عید سے ۱۰؍ دن پہلے ہی کارپوریشن کو واضح کرنا چاہئے تھا کہ بکرے کہاں رکھے جائیں گے اور قربانی کہاں ہوگی؟ ہم پچھلے دو سال سے اس مہم کے لئے کمشنر سے ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن انتظامیہ کی سستی کی وجہ سے آج شہر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کے پاس کارپوریشن کی کوئی تحریری گائیڈ لائن موجود نہیں تھی جس کا مطلب ہے کہ عوام کو گمراہ کیا گیا۔‘‘
دنگا بھڑکانے والوں کو بخشا نہ جائے: انل بھگت
ونچت بہوجن اگھاڑی کے لیڈر اورسیکریٹری انل بھگت نے شہریوں کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا، ’’میرا بھائندر شہر میں سماج دشمن عناصر فرقہ وارانہ رنگ دے کر دنگا فساد بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میری تمام شہریوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ کسی بھی شرپسند کے بہکاوے میں نہ آئیں اور شہر کے ماحول کو خراب نہ ہونے دیں۔‘‘ انہوں نے پولیس انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ ماحول خراب کرنے والے ایسے تمام عناصر کو نشان زد کر کے ان کے خلاف سخت دفعات کے تحت معاملات درج کئے جائیں۔
اسی دوران میرا روڈ کے پونم کلسٹر ہاؤسنگ سوسائٹی میں عیدالاضحیٰ کے بکروں کو لے کر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے اور احتجاج کے معاملے میں کاشی میرا پولیس نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ پولیس نے ممنوعہ احکامات (دفعہ ۱۴۴؍) کی خلاف ورزی کرنے، ایک مسلم شہری کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور سوسائٹی کے احاطے میں خنزیر لا کر جانوروں پر ظلم کرنے کے الزامات کے تحت شرپسندوں اور مظاہرین کے خلاف ۳؍ الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اعلیٰ حکام اور وزارتِ داخلہ کی مداخلت کے بعد پولیس انتظامیہ کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے کی گئی ہے۔
پولیس کا موقف اور کارروائی
کاشی میرا پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ علاقے میں دفعہ ۱۴۴ ؍ نافذ ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر بھیڑ جمع کرنے، نعرے بازی کرنے اور امن و امان کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف پہلا کیس درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک شہری کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور جانوروں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کے الزامات کے تحت مزید دو الگ الگ معاملات درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ کی اپیل
پولیس اور مقامی انتظامیہ نے میرا بھائندر کے شہریوں سے امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کی افواہ پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سوسائٹی اور آس پاس کے علاقوں میں پولیس کی گشت بڑھا دی گئی ہے۔
سوسائٹی والوں نے کیا کہا؟
پونم اسٹیٹ کلسٹر سوسائٹی میں بقر عید کے بکروں کے سلسلے میں پیدا ہونے والے حالیہ تنازع پر سوسائٹی کے رہائشیوں نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے بیرونی عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی تمام افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوسائٹی کے اندرونی ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ سالہا سال سے بھائی چارے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔