Inquilab Logo Happiest Places to Work

میزورم نے ریاست میں بھیک مانگنے پر پابندی عائد کی، اپوزیشن نے اسے ”عیسائی اقدار کے خلاف“ قرار دیا

Updated: August 28, 2025, 6:01 PM IST | Aizawl

وزیر اعلیٰ لال ڈوہوما نے کہا کہ اس بل کا بنیادی مقصد حکومت، غیر سرکاری تنظیموں اور گرجا گھروں کو شامل کرتے ہوئے ایک مشترکہ کوشش کے ذریعے بھکاریوں کی مدد اور بحالی ہے۔

Mizoram CM Lalduoma. Photo: INN
میزورمک کے وزیر اعلیٰ لال ڈوہوما۔ صویر: آئی این این

میزورم کی قانون ساز اسمبلی نے بدھ کو میزورم پروہیبیشن آف بیگری بل ۲۰۲۵ء منظور کرلیا ہے۔ اس بل کا مقصد ریاست میں بھیک مانگنے پر پابندی لگانا اور ساتھ ہی متاثرین کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمیت ۱۳ اراکین کی طویل غور و خوض کے بعد، اسمبلی نے بل منظور کر لیا جس سے |ریاست میں بھیک مانگنے پر سخت ضابطے کے ساتھ ساتھ منظم بحالی کے پروگراموں کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ بل سماجی بہبود کی وزیر لال رینپوئی نے پیش کیا جنہوں نے زور دیا کہ اس کا مقصد صرف بھیک مانگنے پر روک لگانا نہیں بلکہ بھکاریوں کو روزی روٹی کے پائیدار مواقع بھی فراہم کرنا ہے۔

لال رینپوئی نے کہا کہ میزورم میں مضبوط سماجی ڈھانچے، گرجا گھروں کی شمولیت، غیر سرکاری تنظیموں اور موجودہ فلاح و بہبود کی اسکیموں کی وجہ سے روایتی طور پر بہت کم بھکاری ہیں۔ تاہم، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے ۱۳ ستمبر کو سائیرنگ-سیہموئی ریلوے ہیڈ کے آئندہ افتتاح کے ساتھ بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریلوے لائن ممکنہ طور پر ریاست سے باہر کے بھکاریوں کی آمد کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آسام: ہیمنت بسوا شرما کی جبری بے دخلیوں کی تحقیقاتی ٹیم کے خلاف نفرتی بیان بازی

اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے، حکومت قانون کے نفاذ کی نگرانی کیلئے ایک ریاستی سطح کا ریلیف بورڈ قائم کرے گی۔ یہ بورڈ ریسیوِنگ سینٹرز قائم کرے گا جہاں بھکاریوں کو عارضی طور پر رکھا جائے گا، جس کے بعد ۲۴ گھنٹوں کے اندر انہیں ان کے آبائی شہروں یا ریاستوں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔ محکمہ سماجی بہبود کے حالیہ سروے کے مطابق، دارالحکومت آئزول میں پہلے ہی غیر مقامی افراد سمیت ۳۰ سے زیادہ بھکاری موجود ہیں۔

اپوزیشن کے اعتراضات

تاہم، حکومت کے اس اقدام کو اپوزیشن کے اراکین، خاص طور پر ایم این ایف کے لیڈر لال چھانڈاما رالٹے کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے دلیل دی کہ یہ بل عیسائی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا اور میزورم کی ساکھ کو خراب کر سکتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بھیک مانگنے کے مسئلے کو قانون سازی کی ممانعت کے بجائے کمیونٹی پر مبنی مداخلتوں کے ذریعے بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی: ’ڈوم اسکرولرز‘ کیلئے ملازمت؛ انسٹاگرام، یوٹیوب کا اسکرین ٹائم ۶ گھنٹے سے زیادہ ہونا ضروری

قانون سازی کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ لال ڈوہوما نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد حکومت، غیر سرکاری تنظیموں اور گرجا گھروں کو شامل کرتے ہوئے ایک مشترکہ کوشش کے ذریعے بھکاریوں کی مدد اور بحالی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس بل کا مقصد میزورم کی ہمدردی کی روایت کو برقرار رکھنا ہے اور اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ ریاست کو بڑے پیمانے پر بھیک مانگنے سے متعلق سماجی چیلنجوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK