ایوان میں کہا: حکومت ممبئی کے اصل پگڑی کرایہ داروں کو ان کی رہائش کا حق، محفوظ تعمیر نو اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے فیصلہ کن کارروائی کرے۔
رکن اسمبلی منوج جامستکر- تصویر:آئی این این
مانسون اجلاس میں شیوسینا (یو بی ٹی )کے رکن اسمبلی منوج جامستکر نے بائیکلہ اسمبلی حلقےمیں خستہ حال عمارتوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے مکینوںکی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
منوج جامستکر نے ایوان اسمبلی میں بتایا کہ خاص طور پر بائیکلہ اسمبلی حلقے میں بہت سی پرانی اور خطرناک ’پگڑی (کرایہ دار) ‘ والی عمارتیں تعمیر نو کی منتظر ہیں۔ کئی مقامات پر مالکان کی جانب سے کرایہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرکے انہیں ان کی اصل رہائش گاہوں سے بے دخل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس وجہ سے بہت سے خاندانوں کے بے گھر ہونے کی نوبت آ گئی ہے۔ مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ ایکٹ کی دفعہ ۷۹-اے؍ کے تحت ’مہاڈا‘ کو خطرناک ’پگڑی‘ والی عمارتوں کی تعمیر نو کیلئے’مجاز اتھاریٹی‘ کے طور پر اختیارات حاصل ہیں یا نہیں، یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے۔ اس سلسلے میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن نے بھی حلف نامے کے ذریعے یہ نشاندہی کی ہے کہ متعلقہ عمارتوں کی مرمت اور دیکھ ریکھ کا کام مہاڈا کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ’پگڑی‘ والی عمارتوں کی ازسرنوتعمیر کے التواء کا شکار منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے حکومت کو آرڈننس یا قانون میں مناسب ترمیم کر کے مہاڈا کو واضح طور پر ’مجاز اتھاریٹی‘ قرار دینا ضروری ہے۔
اس سلسلے میں بل کو صدر جمہوریہ کی منظوری مل چکی ہے اوریکم دسمبر ۲۰۲۲ء کو بل شائع کیا جا چکا ہے نیز ہائی کورٹ کے ۲؍سبکدوش ججوں نے بھی اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جن پرانی اور خستہ حال پگڑی والی عمارتوں کو مہاڈا نے سی -۱؍ (انتہائی خطرناک) قرار دیا ہے، ان عمارتوں کے مکینوں کودفعہ ۸۸(۳) کے تحت نوٹس دے کر ’آکوپینسی سرٹیفکیٹ (اوسی ) دینے کا مطالبہ ’پگڑی ایکتا سنگھ‘ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ممبئی کے اصل پگڑی کرایہ داروں کو ان کی رہائش کا حق، محفوظ تعمیر نو اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے فیصلہ کن کارروائی کرے۔ انہوں نے حکومت سے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانےکیلئےقابل قدر اقدامات کی گزارش کی۔