پارلیمنٹ میں ایک سابقہ جواب میں، حکومت نے بتایا تھا کہ اس نے ۱۵-۲۰۱۴ء سے ۲۵-۲۰۲۴ء تک کے ۱۱ مالیاتی برسوں کے دوران مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتہارات میں ۴۹ء۵۹۸۶ کروڑ روپے خرچ کئے۔ یہ رقم تقریباً ۵ء۱ کروڑ روپے روزانہ کی اوسط لاگت کے برابر بنتی ہے۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 10:08 PM IST | New Delhi
پارلیمنٹ میں ایک سابقہ جواب میں، حکومت نے بتایا تھا کہ اس نے ۱۵-۲۰۱۴ء سے ۲۵-۲۰۲۴ء تک کے ۱۱ مالیاتی برسوں کے دوران مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتہارات میں ۴۹ء۵۹۸۶ کروڑ روپے خرچ کئے۔ یہ رقم تقریباً ۵ء۱ کروڑ روپے روزانہ کی اوسط لاگت کے برابر بنتی ہے۔
لوک سبھا میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے ۲۱-۲۰۲۰ء سے ۲۵-۲۰۲۴ء کے درمیان پرنٹ میڈیا میں اشتہارات پر ۴ء۹۱۰ کروڑ روپے خرچ کئے۔ وزارت نے یہ معلومات کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ رادھا کرشنا کی طرف سے اٹھائے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
اس پانچ سالہ مدت کے دوران، اخبارات میں ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کو مرکزی حکومت کے پرنٹ اشتہارات سے سب سے زیادہ رقم، یعنی ۲۲ء۷۸ کروڑ روپے ملے۔ اس کے بعد ’دینک جاگرن‘ ۱۴ء۵۹ کروڑ روپے اور ’ہندوستان ٹائمز‘ ۸۰ء۴۷ کروڑ روپے کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے مقام پر رہے۔ اس فہرست میں ’امر اجالا‘، ’ہندوستان‘ اور ’دینک بھاسکر‘ جیسے معروف اخبارات بھی شامل ہیں جنہیں بالترتیب ۹۲ء۲۴ کروڑ روپے، ۵۶ء۲۱ کروڑ روپے اور ۵۳ء۲۰ کروڑ روپے ملے۔ انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو اس مدت کے دوران ۵۱ء۶ کروڑ روپے ملے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں ڈیٹا کی خلاف ورزی کی اوسط لاگت ۱۶؍ فیصد بڑھ گئی: آئی بی ایم رپورٹ
سالانہ اعداد و شمار کے مطابق، ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ نے پانچ میں سے ہر مالیاتی سال میں سب سے زیادہ رقم حاصل کی۔ اسے ۲۱-۲۰۲۰ء میں ۸۷ء۱۷ کروڑ روپے، ۲۲-۲۰۲۱ء میں ۹۵ء۱۶ کروڑ روپے، ۲۳-۲۰۲۲ء میں ۰۱ء۲۱ کروڑ روپے، ۲۴-۲۰۲۳ء میں ۳۲ء۱۶ کروڑ روپے اور ۲۵-۲۰۲۴ء میں ۰۴ء۶ کروڑ روپے ملے۔
پارلیمنٹ میں ایک سابقہ جواب میں، حکومت نے بتایا تھا کہ اس نے ۱۵-۲۰۱۴ء سے ۲۵-۲۰۲۴ء تک کے ۱۱ مالیاتی برسوں کے دوران مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتہارات دینے میں ۴۹ء۵۹۸۶ کروڑ روپے خرچ کئے۔ یہ رقم تقریباً ۵ء۱ کروڑ روپے روزانہ کی اوسط لاگت کے برابر بنتی ہے۔
یہ اعداد و شمار، ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات کے آس پاس کے عرصے میں حکومتی اشتہارات پر ہونے والے زیادہ اخراجات کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ حکومت نے انتخابات سے قبل کے مالیاتی سال ۲۴-۲۰۲۳ء میں ۹۸ء۳۵۳ کروڑ روپے خرچ کئے جبکہ ۲۵-۲۰۲۴ء میں ۴۱ء۳۲۳ کروڑ روپے کےاخراجات کئے۔
یہ بھی پڑھئے: سی جے پی کی پریس کانفرنس، ایتھنال ملا ایندھن، بے روزگاری اور عوامی مسائل پر توجہ
حکومتی اشتہارات عام طور پر فلاحی اسکیموں، پالیسیوں اور عوامی بیداری کی مہمات کی تشہیر کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ تاہم، اپوزیشن پارٹیوں نے بارہا الزام لگایا ہے کہ اس طرح کے اخراجات بی جے پی اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کو فروغ دینے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں، خاص طور پر اس عرصےمیں جب انتخابات نزدیک ہوتے ہیں۔
ایک سینئر حکومتی اہلکار نے ترجیحی سلوک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طے شدہ قوانین کے تحت ہی مرکزی حکومت کے اشتہارات جاری کئے جاتے ہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ اشتہارات کی شرحیں اخبار کی اشاعت اور ایڈیشنز کی تعداد جیسے عوامل کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔ اہلکار نے یہ مؤقف بھی برقرار رکھا کہ مرکزی حکومت کے اشتہارات کسی سیاسی پارٹی یا فرد کو فروغ دینے کے بجائے حکومتی پروگراموں اور پالیسیوں پر مرکوز ہوتے ہیں۔