راہل گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’’یہ تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ اڈانی کی رہائی کا سودا کیا ہے۔‘‘
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 4:07 PM IST | New delhi
راہل گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’’یہ تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ اڈانی کی رہائی کا سودا کیا ہے۔‘‘
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے معاملے پر ایک بار پھر وزیرِ اعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ معاہدہ اپنے دوست صنعت کار گوتم اڈانی کے مفاد میں کیا ہے۔ راہل گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’’یہ تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ اڈانی کی رہائی کا سودا کیا ہے اور وزیرِ اعظم کو ’’کمپرومائزڈ پی ایم‘‘ قرار دیتے ہوئے ان پر سمجھوتہ کرنے کا الزام لگایا۔ کانگریس کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہاکہ ’’اب یہ واضح ہے کہ وزیر اعظم نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان انتہائی مایوس کن اور یک طرفہ تجارتی معاہدے کو کیوں قبول کیا جو دراصل امریکہ کے حق میں یک طرفہ معاہدہ تھا ۔ یہ بھی واضح ہے کہ انہوں نے اچانک ۱۰؍ مئی ۲۰۲۵ء کو صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے سامنے جھک کر ، قومی مفاد کے بجائے ان کے دباؤ میں آپریشن سیندور کو کیوں روک دیا ۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے : مودی کی اپیل کے بعد حکومت کی وضاحت، ایندھن اور توانائی کا وافر ذخیرہ ہے
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اب تاجر اڈانی کے خلاف بدعنوانی سے متعلق تمام الزامات واپس لینے کی تیاری کر رہی ہے ۔ وزیر اعظم اور کتنا سمجھوتہ کریں گے ؟‘‘ خیال رہے کہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کے خلاف امریکہ میں جاری قانونی کارروائی جلد اپنے اختتام تک پہنچ سکتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی حکام اس معاملے کو حل کرنے اور مقدمے کو واپس لینے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک برس سے جاری قانونی تنازع ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام اس معاملے پر مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسی ہفتے اس حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ انصاف گوتم اڈانی کے خلاف عائد الزامات واپس لینے سے متعلق عمل مکمل کرنے کے قریب ہے۔
یہ بھی پڑھئے : نیٹ ۲۰۲۶ء: پرچہ لیک اسکینڈل کے بعد ری ایگزام ۲۱؍ جون کو ہوگا
بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام اس قانونی تنازعہ کو ختم کرنے کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ نومبر۲۰۲۴ء میں سامنے آیا تھا اور اس کے بعد سے مسلسل قانونی کارروائی جاری رہی۔ تاہم اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ متعلقہ ادارے اس کیس کے اختتام کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اڈانی گروپ ابتدا سے ہی اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔ کمپنی کا مؤقف رہا ہے کہ اس معاملے میں عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان میں حقائق کی درست عکاسی نہیں کی گئی۔ گروپ کی جانب سے مسلسل یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اس نے تمام کاروباری سرگرمیاں قوانین اور ضابطوں کے مطابق انجام دی ہیں۔