ہر مذہب نے ماحولیات کے تحفظ کی تعلیم دی ہے۔ وزڈم فاؤنڈیشن کے ذریعہ منعقدہ کانفرنس میں مختلف مذہبی رہنماؤں کا اظہار خیال۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 12:21 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
ہر مذہب نے ماحولیات کے تحفظ کی تعلیم دی ہے۔ وزڈم فاؤنڈیشن کے ذریعہ منعقدہ کانفرنس میں مختلف مذہبی رہنماؤں کا اظہار خیال۔
وزڈم فاؤنڈیشن نے منگل کی شام’ایک انسانیت ایک مسکن‘ کے عنوان سے ماحولیات کے موضوع پر ممبئی پریس کلب میں ایک کانفرنس منعقد کی جس میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے اپنے مذہب میں ماحولیات کے تحفظ کی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ شرکاء نے کرہ ارض کے تحفظ کیلئے اخلاقی روایات پر گفتگو کی جس میں سب کی باتوں میں جو یکسانیت پائی گئی وہ یہ تھی کہ ہر مذہب نے ماحولیات کے تحفظ کی تعلیم دی ہے لیکن لوگ ان پر عمل نہیں کرتے اور خالق نے انسانوں کو عقل سلیم عطا کرکے زمین کا محافظ بنایا ہے ۔اللہ کی ہر مخلوق کا اس پر یکساں حق ہے، اس لئے کوئی بھی اس کا مالک ہونےکا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
پروگرام کا افتتاح وزڈم فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر زینت شوکت علی نے اس پیغام کے ساتھ کیا کہ موجودہ دور میں ماحولیات کو جس قدر نقصان پہنچ رہا ہے اور اس سے انسانیت کو جو خطرات پیدا ہوگئے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے ضروری ہوگیا کہ مذہبی رہنماؤں کو اس موضوع پر گفتگو کیلئے بلایا جائے تاکہ عوام کو ماحول کے تئیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھئے:’’کتب خانہ ماضی کے ورثے، حال کی تشکیل اور مستقبل کی تعمیر کا امین ہے‘‘
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مولانا ظہیر عباس رضوی نے قرآن مجیدکی روشنی میں کہا ہے کہ اس میں انسانوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ تم زمین کے مالک نہیں ہو یہ ایک امانت ہے جو تمہیں دی گئی ہے اور جس کو امانت دی جاتی ہے، اس کا فرض بنتا ہے کہ اس کی حفاظت کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپؐ کی ہجرت کے دوسرے سال جب قوانین بنائے جانے لگے تب یہ بھی قانون بنایا گیا تھا کہ جب مسلمان کسی شہر یا جگہ کو فتح کرکے اس میں داخل ہوں تو وہاں کے پیڑ پودوں، ہریالی، کھیتوں اور فصلوں کو نقصان نہ پہنچائیں جس سے ماحولیات کے تحفظ کا سبق ملتا ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے نائب صدر مولانا محمد عارف عمری نے ایک حدیث شریف کا مفہوم بتاتے ہوئے کہا کہ اگر تمہارے ہاتھ میں پودا ہو جسے تم زمین میں لگانے جارہے ہو اور تمہیں دکھائی دے کہ قیامت آرہی ہے اور اب اس کے پیڑ بننے کا وقت نہیں بچا پھر بھی تم اس پودے کو زمین میں لگادو۔ انہوں نے قرآن کریم کی روشنی میں کہا کہ جن مقامات پر اللہ نے ندی، پیڑ اور ہریالی عطا کی ہے، ان جگہوں کو برکت کی جگہ سے تعبیر کیا ہے یعنی انہیں اپنی دی ہوئی نعمت بتایا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں۔
گرگاؤں چوپاٹی پر واقع اسکان کے خزانچی اور اسکالر کیشو چندرا داس نے کہا کہ گیتا میں زمین کو ماں اور انسان کو اس کا بیٹا کہا گیا ہے اور بیٹوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی ماں کا خیال رکھیں نہ کہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے نقصان پہنچاتے رہیں۔ ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہمیں قدرت سے کیا مل سکتا ہے بلکہ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ہم دنیا کیلئے کیا کرسکتے ہیں؟
بشپ ایولین ڈیسلوا نے بتایا کہ پوری دنیا میں عیسائی ہر سال یکم ستمبر سے۴؍ اکتوبر کے درمیان تہوار مناتے ہیں اور ہر سال مختلف موضوع منتخب کیا جاتا ہے اور ماحولیات کے تئیں ذمہ داریوں کا احساس دلانے کیلئے اس سال کا موضوع `’زندہ پانی‘ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ پوپ لیو کا قول ہے کہ اگر ہم ماحولیات کا تحفظ نہیں کریں گے تو گنہگار ہوں گے۔