باقاعدہ رننگ ٹریک نہ ہونے سے مقامی کھلاڑیوں اور پولیس بھرتی یا کسی کھیل کی تیاری کرنے والوں کو دشواریوں کا سامنا۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 12:32 PM IST | Owais Siddiqui | Mumbai
باقاعدہ رننگ ٹریک نہ ہونے سے مقامی کھلاڑیوں اور پولیس بھرتی یا کسی کھیل کی تیاری کرنے والوں کو دشواریوں کا سامنا۔
میرا بھائندر میں مقامی نوجوانون کھلاڑیوں کی جانب سے شہر کی سطح پر ایک رننگ ٹریک کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر میں اس طرح کا کوئی رننگ ٹریک موجود نہیں ہے جس کے سبب وہ کھلاڑی جو کسی بھی کھیل کی تیاری کر رہے ہیں یا پولیس بھرتی وغیرہ کیلئے تیاری کر رہے ہیں انہیں پریشانیوں کا سامناکرنا پڑتا ہے ، اسی لئے شہر میں ایک باقاعدہ رننگ ٹریک کا ہونا بہت ضروری ہے۔
اس ضمن میں ایک مقامی ایتھلیٹ اور سماجی کارکن کرن پوار نے انقلاب کو بتایاکہ دوڑنے کی مشق کرنے کیلئے کوئی باقاعدہ رننگ ٹریک نہ ہونے کی وجہ سے کئی مقامی کھلاڑیوں کو دہیسر تک جانا پڑتا ہے ۔ میرا بھائندر کے پورے شہر میں ایک بھی رننگ ٹریک موجود نہیں ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ کھلاڑی بھائندر مغرب میں واقع ریڈ وال علاقے میں موجودلمبی سڑک پر دوڑنے کی مشق کرتے ہیں لیکن وہ سڑک تنگ ہے جس پر صبح سویرے ہی سے گاڑیا ں گزرنا شروع ہوجاتی ہیںلیکن اس سڑک پر تعمیراتی کام بھی جاری ہے، اس لئے وہاں بھی دوڑنامشکل ہوجاتاہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹھاکرلی فلائی اوور کی تعمیر میں حائل گھروں کے خلاف انہدامی کارروائی شروع
وہیں دوسرےایک ایتھلیٹ سریش دمارے کے مطابق ، اس معاملے پر کافی وقت سے میونسپل انتظامیہ سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ رواں سال جنور ی میں بھائندر مغرب میں واقع نیتا جی سبھاش چندر میدان میں ۴۰۰ ؍ میٹر سنتھیٹک رننگ ٹریک بنانے کی تجویز پر کچھ حد تک پیش رفت کی گئی تھی جس میں میونسپل انتظامیہ کی جانب سے شہر انجینئر دیپک کھانبت اور دیگر حکام نے سبھاش چندر میدان کا جائزہ لیا تھا اور ایک بجٹ بھی تیارکیا تھا لیکن یہ تمام معلومات مقامی رکن اسمبلی اوروزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کے علم میں لانے کیلئے انہیںمیونسپل انتظامیہ نے ایک خط بھی بھیجا تھا مگر اس کے بعد سے اب تک اس معاملے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
حالانکہ نوجوانوںکا کہنا ہے کہ پولیس بھرتی اور کسی کھیل کی تیاری میں مصروف کھلاڑیوں کو دشواریاں ہوتی ہیں ، اسی لئے مقامی اراکین اسمبلی اور انتظامیہ سے باقاعدہ رننگ ٹریک بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، ساتھ ہی نوجوانوں نےایک وہاٹس ایپ گروپ بنا یا ہے جہاں سبھی مقامی کھلاڑیوں ، ایتھلیٹس وغیرہ کو یکجا کیا جارہا ہے تاکہ جلد ہی متعلقہ اداروں اور انتظامیہ سے ملاقات کر کے ان سے تحریری طور پرمطالبہ کیاجائے۔