ایف ڈی اےکے کمشنر نے شیر خوار بچوں کی غذائیت، ماں کے دودھ کی اہمیت اور انفنٹ فوڈکی مارکیٹنگ پر ضوابط نافذ کئے۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 12:25 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
ایف ڈی اےکے کمشنر نے شیر خوار بچوں کی غذائیت، ماں کے دودھ کی اہمیت اور انفنٹ فوڈکی مارکیٹنگ پر ضوابط نافذ کئے۔
فوڈاینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن(ایف ڈی اے) کمشنر تکارام منڈے نے منگل کو ایک اہم پریس کانفرنس میں اعلان کیاہے کہ اب سے شیر خوار بچوں کی خوراک پر ’ماں کا دودھ بہترین ہوتا ہے ‘ جلی حروف میں لکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس کیلئے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کی صحت کے گرتے ہوئے معیار اور بچوں میں پائی جانے والی بڑھتی ہوئی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے حقائق کے پیش نظر انہوں نے پہلے سے بنے ہوئے اس قانون کو نافذ کرنے کااعلان کیا۔ ایف ڈی اےکے کمشنر تکارام منڈے نے شیر خوار بچوں کی غذائیت، ماں کے دودھ کی اہمیت اور انفنٹ فوڈکی مارکیٹنگ کے ضوابط کو سختی سے نافذ کرنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھئے:انجمن اسلام میں منعقدہ روزگار میلہ کامیاب
ایف ڈی اے کمشنر کے اہم اعلانات
nشیر خوار بچوں کیلئے ہدایات: پیدائش سے ۶؍ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دیا جانا چاہئے۔۶؍ ماہ سے۲؍ سال تک روایتی سپلیمنٹری فوڈ دیا جا سکتا ہے۔ اس لئے بچوں کیلئے بنائی گئی اشیاء پر جلی حروف میں ’ماں کا دودھ بہترین ہوتا ہے ‘ لکھنے کی ہدایت دی۔
یہ تمام احکامات سپلائرز، برانڈ مالکان اور ای کامرس فروشوںپریکساں طور پر لاگو ہوں گے۔
ماں کے دودھ کی فراہمی میں کمی اور تشویشناک حقائق:تکارام منڈے نے بتایا کہ ریاست میں گزشتہ۵؍ سال میں ۶؍ماہ سے کم عمر کے بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کا تناسب ۶۳؍فیصد سے گھٹ کر۵۵؍ فیصد رہ گیا ہے۔
شہربمقابلہ دیہات: شہری علاقوں میں صرف ۵۲؍ فیصد خواتین بچوں کو دودھ پلاتی ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح۷۵؍فیصد ہے۔
پیدائش کے پہلے گھنٹے کی اہمیت:۵۰؍فیصد خواتین پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر بچے کو دودھ نہیں پلاتیں جس سے طبی رہنمائی کی کمی ظاہر ہوتی ہے اور اسلئے بچوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔