Updated: February 10, 2026, 4:10 PM IST
| Moga
موگا کے ایک سکھ کسان جگدیش سنگھ اور ان کے بھتیجوں شمشیر سنگھ اور راجوندر سنگھ کے خاندان نے ایک اہم سماجی فیصلہ کرتے ہوئے اپنی زمین کا ایک حصہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ۷۰؍ سال پرانے قبرستان تک براہِ راست راستہ فراہم کیا جا سکے، جو طویل عرصے سے عوامی رسائی سے محروم تھا۔ مقامی سطح اور سوشل میڈیا پر اس اقدام کو شہری ذمے داری، مذہبی ہم آہنگی اور دیہی مسائل کے عملی حل کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں زمین سے جڑے تنازعات، رسائی کے مسائل اور مذہبی مقامات تک راستوں کی بندش ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔ ایسے پس منظر میں پنجاب کے موگا ضلع کے مہنا گاؤں میں ایک سکھ کسان جگدیش سنگھ اور ان کے خاندان کا حالیہ فیصلہ ایک غیر معمولی سماجی قدم کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے تحت انہوں نے اپنی ذاتی زرعی زمین کا ایک حصہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا تاکہ ایک ۷۰؍ سال پرانے قبرستان تک مستقل اور براہِ راست راستہ فراہم کیا جا سکے۔ یہ قبرستان گزشتہ سات دہائیوں سے مقامی آبادی کے زیر استعمال ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اردگرد کی زمینیں نجی ملکیت میں آتی گئیں اور کوئی باضابطہ راستہ باقی نہ رہا۔ مقامی باشندوں کے مطابق، تدفین کے مواقع پر لوگوں کو کھیتوں سے گزرنا پڑتا تھا، جو نہ صرف دشوار تھا بلکہ بعض اوقات کشیدگی اور تنازع کا باعث بھی بنتا رہا۔
یہ بھی پڑھئے: مرشدآباد: مجوزہ مسجد پر تنازع، یوپی کی ہندوتوا تنظیم کا مارچ کا اعلان
جگدیش سنگھ کے بھتیجوں، شمشیر سنگھ اور راجوندر سنگھ نے کہا کہ خاندان نے یہ فیصلہ کسی قانونی دباؤ یا انتظامی ہدایت کے بغیر کیا ہے۔ ان کے مطابق، قبرستان ایک عوامی ضرورت ہے اور وہاں تک باعزت، محفوظ اور مستقل رسائی فراہم کرنا سماجی ذمہ داری کا تقاضا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمین کا یہ حصہ صرف راستے کے لیے مختص ہوگا اور اس پر کسی قسم کی ملکیت کی شرط عائد نہیں کی جائے گی۔ خاندان کے مطابق، اس فیصلے سے قبل مقامی بزرگوں اور دیہاتی نمائندوں سے غیر رسمی مشاورت بھی کی گئی تھی، جس میں سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلے کا مستقل حل نکالا جانا ضروری ہے۔ عطیہ کی جانے والی زمین پر راستے کی نشاندہی اور اس کی قانونی حیثیت کو محفوظ بنانے کے لیے مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا جا رہا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی فریق کو اعتراض یا مشکل کا سامنا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کشمیری صحافی عرفان معراج کی بلا مقدمہ حراست غیر قانونی قرار دی جائے‘‘
مقامی سماجی کارکنوں نے کہا کہ یہ اقدام دیہی سماج میں باہمی احترام اور عملی ہم آہنگی کی مثال ہے۔ ان کے مطابق، ایسے معاملات اکثر برسوں تک عدالتوں اور انتظامی دفاتر میں لٹکے رہتے ہیں، لیکن رضاکارانہ حل نہ صرف وقت اور وسائل بچاتا ہے بلکہ سماجی تعلقات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ خاندان کے اعلان کے بعد ابتدائی سطح پر ریکارڈ کی جانچ اور راستے کی حد بندی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، جب زمین رضاکارانہ طور پر دی جا رہی ہو تو قانونی عمل نسبتاً آسان ہوتا ہے، تاہم شفافیت کے لیے تمام ضروری دستاویزات مکمل کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں بی جے پی حکومت کے ایک سال پورا ہونے پر جشن
ماہرین کا کہنا ہے کہ قبرستانوں، شمشان گھاٹوں اور دیگر عوامی مقامات تک رسائی آئینی اور شہری حقوق کے دائرے میں آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں آبادی کے پھیلاؤ اور زمین کی تقسیم کے باعث ایسے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں، جہاں پرانے راستے یا تو ختم ہو جاتے ہیں یا نجی ملکیت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں، نجی زمین کا رضاکارانہ عطیہ ایک غیر معمولی مگر مؤثر حل سمجھا جاتا ہے۔ جگدیش سنگھ اور ان کے خاندان کا یہ فیصلہ صرف ایک راستہ فراہم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مختلف مذہبی اور سماجی برادریاں عملی سطح پر ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کر سکتی ہیں۔ ایسے اقدامات اس تصور کو مضبوط کرتے ہیں کہ زمین اور وسائل صرف ملکیت نہیں بلکہ اجتماعی ذمے داری بھی ہیں۔