Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہاس ندی کا پانی داخل ہونے سے موہیلی واٹر پلانٹ بند

Updated: July 07, 2026, 2:10 PM IST | Ejaz Abduilghani | Ulhasnagar

ٹٹوالا اور شہاڈ میں پانی کی سپلائی معطل،ندی کی سطح آب میں خطرناک حد تک اضافہ سے تشویش۔

Water Plant.Photo:INN
واٹر پلانٹ۔ تصویر:آئی این این
گزشتہ چند روز سے جاری موسلادھار بارش کے نتیجے میں الہاس ندی میں طغیانی آ گئی ہے جس نے کلیان اور ڈومبیولی سمیت مضافاتی علاقوں میں نظامِ زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ندی کی سطح آب میں خطرناک حد تک اضافے کے باعث پیر کی صبح موہیلی میں واقع واٹر پمپنگ اور پیوری فیکیشن مرکز میں سیلاب کا پانی داخل ہو گیا۔کسی بڑے تکنیکی نقصان سے بچنے کیلئے انتظامیہ نے فوری طور پر پلانٹ کو بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے ٹٹوالا، شہاڈ، بنیلی،امبیولی، مانڈا اور موہنے جیسے علاقوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب موہنے۔موہیلی فلائی اوور پر پانی بھر جانے سے کلیان شہر کا متبادل رابطہ منقطع ہو گیا۔
 
 
عیاں رہے کہ موہیلی واٹر پیوریفیکیشن مرکز میں کُل ۱۶؍ پمپ ۲۴؍ گھنٹے کام کرتے ہیں جو کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کی حدود میں روزانہ پانی فراہم کرتے ہیں۔ پیر کی صبح  الہاس ندی کا پانی جب ۱۰۰؍ ملین لیٹر کی گنجائش والے اس پلانٹ میں داخل ہوا تو وہاں موجود ملازمین نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کو مطلع کیا اور پانی کھینچنے و سپلائی کرنے والے پمپ کو فی الفور بند کر دیا۔
پلانٹ کے نگراں ٹھیکیدار سنجے شاہ نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اگر موسلادھار بارش کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو پورا پمپنگ اسٹیشن جل تھل ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ ماضی میں یہ پمپ تہہ خانے (بیسمنٹ) میں نصب تھے جہاں ہر سال سیلاب کا پانی بھر جاتا تھا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے  میونسپل کارپوریشن نے پمپ کو اونچائی پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں ایک جدید خودکار نظام نصب کیا تھا۔ ٹھیکیدار سنجے شاہ نے بتایا کہ اس ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کی بدولت اب عملے کی عدم موجودگی میں بھی پلانٹ کو گھر بیٹھے بند یا چالو کیا جا سکتا ہے۔ سیلاب کے پیشِ نظر ملازمین کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دے دی گئی تھی۔ اب پانی اترنے کے بعد جمع ہونے والے کیچڑ کو صاف کرکے ہی پلانٹ دوبارہ بحال کیا جا سکے گا۔
 
 
دوسری جانب موہنے۔موہیلی فلائی اوور موسلادھار بارش کی وجہ سے پانی میں ڈوب گیا ہے۔اس پُل سے روزانہ گزرنے والے ملازمین، دودھ فروش، تاجر اور طلبہ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئےاور انہیں طویل متبادل راستوں کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK