• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مومن پورہ اُردوہائی اسکول کا قیام ۱۹۱۵ء میں عمل میں آیا تھا

Updated: September 10, 2026, 10:58 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

مومن پورہ میں واقع حنا بیکری کے اُوپر ایک سو گیارہ سال پہلے (۱۹۱۵ء میں) مومن پورہ اُردو میونسپل اسکول کا قیام عمل میں آیا تھا۔ 

This school in Mominpura was the first Urdu-medium school in the area, offering instruction from Class 1 to Class 7. Photo: INN
مومن پورہ کا یہ اسکول علاقے کا پہلا اردو اسکول تھا جہاں اوّل تا ہفتم جماعت تک پڑھایا جاتا تھا۔ تصویر: آئی این این

مومن پورہ میں واقع حنا بیکری کے اُوپر ایک سو گیارہ سال پہلے (۱۹۱۵ء میں) مومن پورہ اُردو میونسپل اسکول کا قیام عمل میں آیا تھا۔  اس دور میںاس علاقےمیں کوئی اُردو اسکول نہیں تھا۔ یہ مومن پورہ کا پہلا اُردو اسکول تھا، جہاں اوّل تاہفتم جماعت کی پڑھائی کی سہولت تھی۔ علاقہ میں کوئی دوسرا اسکول نہ ہونے سے اس وقت بچوں کی تعداد خاطرخواہ تھی۔ ۲۰۰۶ء میں صابرہ بامبووالا کی نگرانی میں یہ اسکول اگری پاڑہ مراٹھی اسکول میں منتقل ہوا ۔ اس عمارت میں مومن پورہ کے علاوہ دیگر ۴؍ میڈیم کے اسکول جاری ہیں، جن میں ایک سیکنڈری اُردو اسکول بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ریاست کے ایک کروڑ ۲۰ ؍لاکھ ووٹروں کو دستاویز دکھانا ضروری

مومن پورہ اسکول کے طلبہ آٹھویں پاس کرنے کے بعد اسی سیکنڈری اسکول سے تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ مومن پورہ اسکول کے طلبہ کا رزلٹ گزشتہ ۳؍ سال سے صد فیصد آ رہا ہے۔ یہاں کے طلبہ غیرنصابی سرگرمیوں میں بھی خوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔

مومن پورہ اسکول کی ہیڈ مسٹریس یاسمین بانو محمد حنیف کے بقول ’’ ہماری ا سکول سے جو بچے پڑھ کے گئے ہیں ان میں کئی ایسے ہیں جنہوں  نے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، مثلاً ہماری ایک طالبہ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، اس کے علاوہ کچھ بچیاں بحیثیت نرس اپنی خدمات انجام دے  رہی ہیں اور کچھ معلم بن چکی  ہیں۔ اسکالرشپ امتحان میں بھی ہمارے بچوں نے امتیازی کامیابی درج کرائی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK