• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’آئین کو پڑھنے سے زیادہ اس پر عمل اور اپنی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے‘‘

Updated: February 09, 2026, 3:44 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

انجمن اسلام اے آر انتولے لاء کالج، ممبئی یونیورسٹی اور ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن کے اشتراک سے’عصرحاضر میں صنفی انصاف اور سماجی تبدیلی‘ عنوان پر کانفرنس کا انعقاد۔

A view of the conference held at Anjuman-e-Islam AR Antola Law College. Photo: INN
انجمن اسلام اے آر انتولے لاء کالج میں منعقدہ کانفرنس کامنظر۔ تصویر: آئی این این

انجمن اسلام کے بیرسٹر اے آر انتولے کالج آف لا ء نے شعبۂ قانون، یونیورسٹی آف ممبئی اور مہاراشٹر اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے اشتراک سے ’عصرحاضر میں صنفی انصاف اور سماجی تبدیلی‘ کے موضوع پر یکروزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں قانون کے پروفیسر اور طلبہ نے آن لائن اور آف لائن ریسرچ پیپر لکھا ،اسے انجمن اسلام نے شائع کیا ہے۔ اس موقع پر اس کا اجراء بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: امتحانی مرکز دور دینے سے طلبہ کو پریشانی کا اندیشہ

  جسٹس ایس ایم موڈک ( بامبے ہائی کورٹ ) نے خصوصی خطاب کیا جبکہ صدارت ڈاکٹر شیخ عبداللہ، (نائب صدر، انجمن اسلام) نے کی۔ اس کے ساتھ ہی ایڈوکیٹ عقیل حفیظ، سی اے شکیل شیخ،  اور ڈاکٹر راج شری وراڈی( سربراہ شعبۂ قانون، ممبئی یونیورسٹی )  بھی موجود رہے۔ یہ کانفرنس پرنسپل ڈاکٹر فلک ناز شیخ کی نگرانی میں ہوئی۔ جسٹس ایس ایم موڈک نے صنفی انصاف کے توازن میں آئین ہند کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ آئین کو محض پڑھنے کے بجائے اس پر عمل کرنا اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے آئین ہند کے آرٹیکل۵۱؍ اے کے تحت مذکور بنیادی فرائض کی ادائیگی اور اہمیت کا بھی تذکرہ کر کیا۔انہوں  نے حاضرین کو خواتین کے کردار میں آنے والی تبدیلی سے بھی حاضرین کو آگاہ کرایا اور کہا کہ آزادی سے قبل ’چولہا اور مول‘ تک محدود سمجھاجاتا تھا مگر آزادی کے بعد ہر ادارے اور تنظیم میں خواتین نہ صرف خدمات انجام دے رہی ہیں بلکہ کئی شعبوں میں وہ قائدانہ رول ادا کررہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: جی ایم مومن ویمنس کالج میں ’شخصیت سازی اور کردار سازی‘ کے عنوان پراجلاس

اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر عبداللہ شیخ نے انجمن اسلام کی۱۵۰؍ سالہ تاریخ اور اس کے زیرانتظام جاری مختلف علوم و فنون کے اداروں اور بالخصوص لڑکیوں کے یتیم خانے کے حوالے سے کہا کہ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ اور بیٹی بساؤ، یہ انجمن کا نصب العین رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انجمن اسلام کی خواتین کے تعلق سے عملی صورتحال کو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ انجمن کے۸۰؍ فیصد اداروں کی سربراہ یا اعلیٰ عہدوں پر خواتین فائز رہ کر نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انجمن کے ذمہ داران نے خواتین کو آگے بڑھانے کے لئے انہیں بھرپور مواقع فراہم کئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK