سپریم کورٹ فیصلہ سنا چکا ہے کہ اُردو ہندوستانی زبان ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو مضمون لکھ چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ اسے مسلمانوں کی زبان یا بدیسی زبان کہتے ہیں جس کی مذمت ہونی چاہئے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 3:26 PM IST | shamim Tariq | Mumbai
سپریم کورٹ فیصلہ سنا چکا ہے کہ اُردو ہندوستانی زبان ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو مضمون لکھ چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ اسے مسلمانوں کی زبان یا بدیسی زبان کہتے ہیں جس کی مذمت ہونی چاہئے۔
جھوٹ اور افواہ سے ناطقہ سر بہ گریباں تھا ہی کہ جھوٹی خبروں اور ناعاقبت اندیش لوگوں کے بیانات نے اور برا حال کیا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اُردو صحافت میں جھوٹی خبروں اور من گھڑت بیانات کی تردید کرنے والے بھی نہیں رہ گئے مگر ’سینئر صحافیوں‘ کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ چند دوسری زبانوں کے صحافی نہ ہوں تو سچائی سامنے ہی نہ آئے۔ ایودھیا مندر میں چندہ چوری کے سلسلے میں ہندی صحافیوں نے مورچہ کھولا تو اس ریاست کے وزیراعلیٰ نے جو پہلے اُردو کو کٹھ ملاؤں کی زبان کہہ چکے ہیں بیان دے دیا کہ ہنومان گڑھی پر نماز پڑھی گئی۔ ضرورت تھی کہ اس جھوٹے بیان کی قلعی کھولی جاتی مگر اُردو اکیڈمی کے مالیگاؤں سمینار میں کہا گیا کہ ’’اُردو کا مستقبل تاریک ہے، یہ سوچنے والا ذہن تاریکی میں ہے۔‘‘ کوئی اعتراف نہیں کرتا کہ اُردو کا مستقبل تاریک بنایا جا رہا ہے مگر اس کے روشن مستقبل کی بات کرنے والوں کو یہ تو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ این سی پی یو ایل، دہلی اُردو اکیڈمی اور یوپی اُردو اکیڈمی میں چیئرمین تک نہیں ہے اور کئی اکیڈمیوں کے بند کر دیئے جانے کی بھی خبریں ہیں۔ ہنومان گڑھی میں نماز کی خبر کو بھی ہندی کے صحافیوں نے غلط بتایا ہے۔ اُردو کے صحافیوں کو ’’برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر‘‘ کا ورد کرنے یا سینئر صحافی ہونے کے زعم سے باہر آنے کی فرصت ہی نہیں۔ خبر میں صوبائی سمینار کی ترکیب استعمال کرنے والے نے اپنی اس لاعلمی کا ثبوت دیا کہ ملک میں صوبے، صوبیدار اور صوبیدار کی بغاوت کی بات پرانی ہوگئی، Princely States بھی ختم ہوچکے، اب صرف States ہیں جہاں قانون کی حکمرانی کی نگرانی کرنے والا ’گورنر‘ کہلاتا ہے اور جس کا تقرر صدر جمہوریہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کام کرنے کی عمر والوں کی آبادی بڑھ رہی ہے
یوپی کے وزیراعلیٰ نے بیان شاید اس لئے دیا تھا کہ چندہ چوری سے توجہ ہٹ جائے مگر خود بی جے پی اور رام جنم بھومی تحریک کے ایک سرگرم رکن نے اس بیان کو جھوٹ بتایا بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ ہنومان گڑھی کی تعمیر کروانے والوں میں ایک مسلمان بھی شامل ہے اور اس کے نام کی تختی بھی لگی ہوئی ہے مگر بعد میں انہوں نے اپنے بیان کی ایسی وضاحت کی کہ مفہوم بدل گیا۔ شاید دباؤ میں آگئے۔ ایک صاحب نے یہ بھی بتایا کہ نواب شجاع الدولہ اور صفدر جنگ نے کس طرح گنگا جمنی تہذیب کو مستحکم کرنے کی کوشش کی تھی مگر اکیڈمی کے سمینار میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ شاید شرکاء چاہتے تھے کہ بات چاہے جتنی غلط کہی جائے مگر لفافہ ان کو ملتا رہے۔ جب یہ وطیرہ اختیار کیا جائے تو جو نتیجہ برآمد ہوسکتا تھا وہ چند سال پیشتر ہی دیکھنے میں آگیا۔ ہوا یہ کہ آئی آئی ٹی دہلی کےایک طالب علم نے جب اپنا مقالہ ہندی میں لکھا تو ادارہ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بالآخر عدالت کو مداخلت کرنا پڑا یعنی ہمیں اپنے جہل کے ساتھ انتظامیہ کے تعصب کا بھی سامنا ہے مگر ہمارا معمول یہ ہے کہ اقتدارکے گلیاروں میں اپنے غیرت مند لوگوں کی برائی کرکے کچھ حاصل کرنا اپنی معراج سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نئی نسل ہندوستان کی نئی امید
یہ اچھا ہے کہ کسی زبان سے ہم اب بھی نفرت نہیں کرتے البتہ مادری زبان اُردو کے بارے میں چھوڑے گئے شوشوں سے پریشان رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ فیصلہ سنا چکا ہے کہ اُردو ہندوستانی زبان ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو مضمون لکھ چکے ہیں۔ خود بی جے پی کے لوک سبھا میں ڈپٹی لیڈر گوپی ناتھ منڈے اُردو کے حق میں آواز بلند کر چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اعتراف کرتے تھے کہ اُردو کے لئے بہت کچھ کیا جانا ہے اس کے باوجود یوپی کے وزیراعلیٰ کا اُردو کو کٹھ ملاؤں کی زبان کہنا حیرت کا باعث ہے۔ کیا مہاراشٹر اُردو اکیڈمی کے سمینار میں یہ بات کہنی ضروری نہیں تھی کہ اُردو ہندوستان کے تمام طبقوں کی زبان تھی مگر اب نہیں رہ گئی ہے اور اس کے مستقبل کو تاریک بنانے کی کوشش قصداً کی جا رہی ہے۔ شاید اسی لئے ہندی یونیورسٹی وردھا میں اُردو شعبہ ہندی میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اُردو دستور ہند کے آٹھویں شیڈول میں بھی شامل ہے اس لئے اگر کوئی شخص اُردو کو کٹھ ملاؤں کی زبان، پاکستانی زبان، مسلمانوں کی زبان یا بدیسی زبان کہتا ہے تو اس کو دستور دشمن اور ملک دشمن قرار دینے میں ہمیں تردد نہیں ہونا چاہئے، خود اس کی مذمت کرنے کے ساتھ دوسروں سے بھی اس کی مذمت کروانا چاہئے۔ مذکورہ سمینار میں بھی اس کا ذکر ہونا چاہئےتھا اور چونکہ سمینار کا مرکزی عنوان ڈجیٹل میڈیا تھا اس لئے گفتگو تو یہ ہونا چاہئے تھی کہ ڈجیٹل میڈیا نے بے شمار مسائل پیدا کرنے کے ساتھ بے مثال مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔ خرابی یہ ہے کہ ڈجیٹل پلیٹ فارم، ملٹی میڈیا مواد، شارٹ ویڈیو معلومات، پوڈ کاسٹ وغیرہ نہ صرف کتابوں کی جگہ لے رہے ہیں بلکہ تفریح بھی مہیا کر رہے ہیں جو سنجیدہ علمی اور ادبی روایات کی بقاء کیلئے خطرہ ہے۔ فائدہ یہ ہے کہ ڈجیٹل میڈیا مختلف مذہبوں اور ثقافتوں کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینے، ذہنی صحت کو بہتر بنانے، روحانیت و معرفت کی طرف راغب کرنے اور فنون لطیفہ اور تاریخ و ثقافت کی تطہیر میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اُردو زبان و ادب اور صحافت کی راہ میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اوّل تو یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ اُردو ہندوستانی زبان ہے اور اس کو بدیسی قرار دینے والے ملک دشمن ہیں۔ دوم یہ کہ خوشامدیوں اور سازش کرنے والوں کو اوّل تو بولنا اور لکھنا نہیں آتا اور وہ بولتے بھی ہیں تو غلط اُردو میں غلط باتیں۔
اسی طرح اُردو کی کلاسیکی اصناف کے متعلق کئی ایسی باتیں کی جاتی ہیں جو غیر حقیقی اور گمراہ کن ہیں مثلاً ان میں گل و بلبل، قد و گیسو، شمع و پروانہ، لب و رخسار اور شراب و شباب کی باتیں کی جاتی ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں کہ کلاسیکی ادب اور اس کی مختلف اصناف کی بنیاد ہند اسلامی تہذیب پر قائم ہے اور کلاسیکی اصناف شاعری کی زبان استعاراتی ہے جس کی تعبیر اور جس سے مراد یکسر مختلف ہوتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم ’’ایک پرندہ اور جگنو‘‘ کے آخر میں کہلوایا ہے کہ: قیام بزم ہستی ہے انہیں سے/ ظہورِ اوج و پستی ہے انہیں سے/ ہم آہنگی سے ہے محفل جہاں کی/ اسی سے بہار اس بوستاں کی!
یہ بھی پڑھئے: طلبہ تحریک: دہلی سے دربھنگہ تک
جس مصرع کو اس مضمون کا عنوان بنایا گیا ہے وہ بھی پنڈت آنند نرائن ملا کے اس شعر کا پہلا مصرع ہے کہ: نظام میکدہ ساقی بدلنے کی ضرورت ہے/ ہزاروں ہیں صفیں جن میں نہ مے آئی نہ جام آیا! اس شعر کو موجودہ حکومت کے فلاحی منصوبوں اور جمہوریت کو اکثریت نواز بنا دینے کے تناظر میں پڑھنے سے سیاست و معاشرت کے کئی حقائق آئینہ ہوجاتے ہیں اور نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ جنہیں اُردو نہیں آتی انہوں نے اُردو کی راہ میں کافی روڑے اٹکائے ہیں اور ان کی مدد کی ہے ان لوگوں نے جنہیں اُردو نہیں آتی۔