Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میں مسجد نے جیتے دل، حسنِ اخلاق نےغلط فہمیوں کی دیوار توڑدی

Updated: June 23, 2026, 4:01 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

آج جب مسلمانوں کے خلاف مختلف سطحوں پر غلط فہمیاں اور منفی پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے، ایسے میں خدمت، محبت اور حسنِ سلوک کے یہ چھوٹے چھوٹے اعمال ان تمام تصورات کو خاموشی سے غلط ثابت کر دیتے ہیں۔

Non-Muslim parents of students appearing for the NET exam were accommodated in the upper part of the Darul Uloom Deeniyat mosque. Photo: INN
نیٹ امتحان دینے والے طلبہ کے غیر مسلم والدین کو مسجد دارالعلوم دینیات کے اوپری حصے میں ٹھہرایا گیا۔تصویر:آئی این این
بھیونڈی میںمنعقدہ نیٖٹ ری ایگزام کے موقع پر پیش آنے والا ایک خوبصورت منظر اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ مساجد اور برادرانِ وطن کے درمیان مضبوط تعلقات کی بنیاد صرف تقریروں یا نعروں پر نہیں بلکہ اچھے اخلاق، خدمتِ خلق اور عملی کردار پر قائم ہوتی ہے۔ آج جب مسلمانوں کے خلاف مختلف سطحوں پر غلط فہمیاں اور منفی پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے، ایسے میں خدمت، محبت اور حسنِ سلوک کے یہ چھوٹے چھوٹے اعمال ان تمام تصورات کو خاموشی سے غلط ثابت کر دیتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو رسولِ اکرمﷺ  نے امت کو دکھایا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے اعلیٰ اخلاق، رواداری، ہمدردی اور حسنِ معاملہ سے نہ صرف دوستوں بلکہ اپنے سخت ترین مخالفین کے دلوں میں بھی جگہ بنائی تھی۔ صنعتی شہر میں نیٹ امتحان کے دوران مسجد دارالعلوم دینیات میں غیر مسلم طلبہ کے والدین کیلئے کئے گئے انتظامات اسی نبوی تعلیم کی ایک عملی جھلک محسوس ہوئی۔
برادرانِ وطن کے خدشات کا خاتمہ
نیٹ ری ایگزام کے سلسلے میں کلیان سے آنے والی آرتی رانے نے بتایا کہ امتحانی مرکز کی تبدیلی کے باعث وہ پہلی بار بھیونڈی آئی تھیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شہر اور شہریوں کے بارے میں ان کے ذہن میں کچھ خدشات تھے، لیکن یہاں پہنچنے کے بعد انہیں طلبہ اور ان کے والدین کیلئے بہترین انتظامات، احترام اور اپنائیت کا ماحول ملا۔ ان کے مطابق شدید گرمی میں مسجد کا اوپری حصہ ہمارے آرام گاہ، پانی اور دیگر سہولیات کا مختص کیا جانا ایک خوشگوار اور پہلا تجربہ ہے۔
 
 
اسی طرح امبرناتھ، تھانے اور ڈومبیولی جیسے دور دراز علاقوں سے آنے والے غیر مسلم والدین (جن میں اوپیندر مہاجن، سلوچنا شرما، اور مینل مانے شامل ہیں) نے اعتراف کیا کہ بھیونڈی آنے سے قبل شہر کے ماحول کو لے کر ان کے ذہنوں میں شدید خوف اور خدشات تھے اور بعض سرپرست تو فکر کی وجہ سے رات بھر سو بھی نہیں سکے تھے۔
مسجد میں فراہم کردہ سہولیات
مینل مانے نے اپنے تاثرات میں کہا کہ اس سے قبل دوسرے امتحانی مراکز پر والدین کیلئے مناسب سہولتیں موجود نہیں تھیں ہم پورا دن دھوپ میں کھڑے تھے جبکہ بھیونڈی میں آرام دہ انتظار گاہ، پنکھوں، پانی، چائے اور ناشتے کے انتظام نے کئی گھنٹوں کے انتظار کو آسان بنا دیا۔امبرناتھ سے آنے والی فرزانہ شیخ نے کہا کہ گزشتہ امتحانات کے دوران انہوں نے والدین کو مختلف مشکلات کا سامنا کرتے دیکھا تھا لیکن بھیونڈ ی میں انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ والدین کی ضرورتوں کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
 
 
انتظامیہ کا پیغام
مسجد دارالعلوم دینیات کے ذمہ دار مولانا رئیس احمد ندوی نے کہا کہ یہ ان کیلئے باعثِ سعادت ہے کہ انہیں ایک بار پھر خدمتِ خلق کا موقع ملا۔ دین کی اصل روح انسانیت کی خدمت اور اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے میں مضمر ہے، اسی سوچ کے تحت والدین اور طلبہ کی سہولت کیلئے انتظامات کئے گئے۔نیٹ ری ایگزام کا یہ دن صرف ایک امتحان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ جب مساجد اپنے دروازے انسانیت کیلئے کھولتی ہیں، جب مسلمان اپنے اخلاق اور کردار سے لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کرتے ہیں، تو برسوں کی بدگمانیاں چند گھنٹوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔ شاید یہی وہ پیغام ہے جس کی آج کے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اسی طرح صمد نگر میں واقع مسجد و مدرسہ ہدیٰ میں مدرسے کے اندر خواتین جبکہ مسجد کے صحن میں مردوں کے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK