بجرنگ دل کے کارکنان نے گاؤں پہنچ کر مسجد و مدرسہ کا معائنہ کیا، مقامی افراد سے تکرار کے بعد انتظامیہ بلڈوزر کے ساتھ موقع پر پہنچا اور مسجد و مدرسہ کو منہدم کر دیا۔
ٹین شیڈ میں قائم مسجد و مدرسے پر بلڈوزر کارروائی- تصویر:ائی این این
حالیہ چند برسوں سے اترپردیش میں مساجد اور مدارس مسلسل نشانے پر ہیں۔اس دوران سنبھل، سیتا پور، لکھنؤ، گورکھپور اور کشی نگر کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی مساجد و مدارس پر بلڈوزر چلے ہیں۔ تازہ معاملہ اُناؤ ضلع کا ہےجہاں اسونیا گاؤں میں ایک ٹین شیڈ میں قائم مسجد اور مدرسہ پر بلڈوزر چلا دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد مقامی باشندوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ مسجد کمیٹی اب عدالت جانے کی تیاری کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، بجرنگ دل کے کارکنان سنیچر کو اسونیا گاؤں پہنچ کر مسجد و مدرسہ کا معائنہ کیا تھا۔ اس دوران مقامی لوگوں سے ان کی تکرار بھی ہوئی تھی جس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان نعرے بازی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ حالات کشیدہ ہوتے دیکھ کر تھانہ ماکھی پولیس بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئی اور فریقین کو سمجھانے کی کوشش کی، تاہم بجرنگ دل کے کارکنان شرپسندی پر آمادہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد اور مدرسہ سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے ہیں،اسلئے انہیں فوری طور پر ہٹایا جانا چاہئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ کی خاموش حمایت حاصل تھی۔
ذرائع کے مطابق، تحصیل انتظامیہ پہلے ہی مسجد کمیٹی کو اراضی خالی کرنے کا نوٹس جاری کر چکا تھا۔ پولیس اور تحصیلدار کے درمیان بات چیت کے بعد تحصیل عملہ بلڈوزر کے ساتھ موقع پر پہنچا اور مسجد و مدرسہ کو منہدم کر دیا۔ انتظامیہ نے ہدایت دی کہ مذکورہ مقام پر دوبارہ کسی قسم کی تعمیر نہ کی جائے، کیونکہ یہ زمین گرام سماج کے ریکارڈ میں کھیل کے میدان کے طور پر درج ہے۔
دوسری جانب مسجد کمیٹی کے صدر منور اور سکریٹری کلن نے بتایا کہ مسجد عثمانی و مکتب کا وقف بورڈ میں ۲۰۲۱ء میں رجسٹریشن کرایا گیا تھا اور اُسی سال سے مقامی باشندے یہاں نماز ادا کر رہے تھے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اراضی سے متعلق مقدمہ سابق امام عین الحق کے نام سے زیر سماعت تھا، لیکن ان کی عدم پیروی کے باعث فیصلہ یکطرفہ ہو گیا۔ مسجد کمیٹی کے ذمہ داران نے دعویٰ کیا کہ انہیں انتظامیہ اور مسجد کے درمیان جاری مقدمے کی تفصیلات کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ادھر مسجد کے انہدام کے بعد گاؤں کے لوگوں میں شدید ناراضگی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
اس سلسلہ میں ایس ڈی ایم شتیج دویدی نے بتیاا کہ گاٹا نمبر ۱۲۲، جس کا رقبہ ۰ء۸۳۵؍ ہیکٹیئر ہے، محکمۂ ریوینیو کے ریکارڈ میں کھیل کے میدان کے طور پر درج ہے۔ اس زمین پر غیر قانونی طور پر ایک مدرسہ چلایا جا رہا تھا۔ اس معاملے میں محکمۂ ریوینیو کی عدالت نے بے دخلی کا حکم جاری کیا تھا اور ضابطے کے مطابق متعلقہ فریق کو نوٹس دے کر قبضہ ہٹانے کے لیے مناسب مہلت بھی دی گئی، لیکن مقررہ مدت کے اندر قبضہ نہیں ہٹایا گیا۔ اس کے بعد اتوار کو پولیس فورس کی موجودگی میں غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کی کارروائی انجام دی گئی۔ ایس ڈی ایم نے مزید کہا کہ قبضہ ہٹائے جانے کے بعد اس زمین کو کھیل کے میدان کے طور پر ڈیولپ کیا جائے گا۔ زمین کے تحفظ کے لیے پورے علاقے میں تار بندی کرائی جائے گی، تاکہ گاؤں کے بچوں کو کھیل کود کی بہتر سہولیات میسر آئیں ۔