کمال مولیٰ مسجد اور بھوج شالہ مندر تنازع پر ۲؍ اپریل کی شنوائی سے قبل سنیچر کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے دو ججوں نےدھار میں کمال مولا مسجد کمپلیکس کا معائنہ کیا۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 10:37 AM IST | Mumbai
کمال مولیٰ مسجد اور بھوج شالہ مندر تنازع پر ۲؍ اپریل کی شنوائی سے قبل سنیچر کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے دو ججوں نےدھار میں کمال مولا مسجد کمپلیکس کا معائنہ کیا۔
کمال مولیٰ مسجد اور بھوج شالہ مندر تنازع پر ۲؍ اپریل کی شنوائی سے قبل سنیچر کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے دو ججوں نےدھار میں کمال مولا مسجد کمپلیکس کا معائنہ کیا۔ ہندو فریق اس مقام کو وگدیوی مندر (سروسوتی) کا مندر مانتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: اسپتال میں زیر علاج لوکو پائلٹ کی خود کشی
جج وجے کمار شُکلا اور جج الوک اوستھی دوپہر تقریباً ایک بج کر۵۰؍ منٹ پر کمپلیکس پہنچے اور تقریباً ۳؍بجے وہاں سے لوٹے۔ معائنہ کے دوران ان کے ساتھ کلکٹر پریانک مشرا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ ماینک اوستھی سمیت ضلع انتظامیہ کے سینئر افسران موجود تھے۔ سخت سیکوریٹی کے انتظامات کے درمیان، ججوں نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ماتحت اس کمپلیکس کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور اس کی تعمیرات اور تاریخ سے متعلق معلومات حاصل کیں۔انہوں نے کمپلیکس کے ستونوں اور ’’شیلالیکھوں‘‘کا بھی جائزہ لیا۔ درخواست گزار آشیش گوئل نے بتایا کہ عدالت نے۱۶؍ مارچ کی سماعت کے دوران ہی ججوں کے مقام معائنہ کی اطلاع دی تھی۔