Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناگپور: اسپتال میں زیر علاج لوکو پائلٹ کی خود کشی

Updated: March 29, 2026, 10:19 AM IST | Mumbai

سینٹرل ریلوے کے ناگپور ڈیویژن میں ایک لوکو پائلٹ کی خودکشی کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ریلوےاسپتال میں زیر علاج سدھا کر چنارکرنامی لوکو پائلٹ نے اسپتال کے اندر ہی پھانسی لگا لی۔

Sudhakar Chinarkar. Photo: INN
سدھاکر چنارکر۔ تصویر: آئی این این

سینٹرل ریلوے کے ناگپور ڈیویژن میں ایک لوکو پائلٹ کی خودکشی کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ریلوےاسپتال میں زیر علاج سدھا کر چنارکرنامی لوکو پائلٹ نے اسپتال کے اندر ہی پھانسی لگا لی۔اسکی وجہ سے ناگپور کے محکمہ ریلوے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ سدھاکر نے خودکشی کیوں کی؟ اس کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ ریلوے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کےاثرات، اورنگ آباد میں ہر طرح کا خوردنی تیل مہنگا

چندر پور کا رہنے والاسدھاکر چنارکر(۵۹) چند دن پہلے باتھ روم میں گر کر زخمی ہو گیا تھا۔ اسے علاج کیلئے ریلوے اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ وہ اسپتال میں پرائیویٹ کمرے میں مقیم تھا۔ سنیچر کو جب اسپتال کا عملہ چیک اپ کیلئے کمرے میں پہنچا تو دیکھا کہ سدھا کر چھت سے لٹکا ہوا ہے۔ اس نے خود کو پھانسی لگا لی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈیویژنل ریلوے منیجر اسپتال پہنچے۔اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔ ریلوے انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس بات کی بھی تفیش کی جا رہی ہےکہ سدھاکر نے گھریلو وجوہات کی بنا پر خودکشی کی ہے یا کام کی جگہ سے متعلق کوئی وجہ تھی؟ یاد رہے کہ سدھاکر کی ڈیوٹی چندر پور ہی میں تھی۔کہا جا رہا ہے کہ سدھاکر چنارکر ایک فرض شناس لوکو پائلٹ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کی موت کی خبر پر ریلوے ملازمین کی یونین اور ان کے ساتھیوں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی اس کی خود کشی پر حیرانی ظاہر کی ہے۔ ریلوے پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا وہ چوٹ کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور ذاتی وجہ تھی۔ خبر لکھے جانے تک مہلوک کے اہل خانہ کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK