• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وارانسی بکرامنڈی میں محمد دیپک اِفیکٹ: شرپسندوں کے خلاف مقامی افراد کھڑے ہوگئے

Updated: February 19, 2026, 7:31 PM IST | Varanasi

وارانسی کی تاریخی بکرامنڈی میں مردہ بکرے کے مبینہ ویڈیو کے بعد اے بی وی پی کے کم و بیش ۲۰؍ ممبران نے دکانیں بند کرانے کی کوشش کی، جس پر کشیدگی پیدا ہوگئی۔ مقامی افراد پسندوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔ پولیس نے علاقے میں غیر قانونی ذبح خانے کی تردید کرتے ہوئے جانوروں کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعہ کو ’محمد دیپک افیکٹ‘ قرار دیا جارہا ہے۔

Symbolic image; Image INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

وارانسی کے چیت گنج علاقے میں واقع قدیم بکرامنڈی میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ((اے بی وی پی) سے وابستہ تقریباً ۲۰؍ طلبہ وہاں پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ طلبہ مہاتما گاندھی کاشی ودیا پیٹھ کے ہیں اور ان کی قیادت کاشی مہانگر اے بی وی پی کے سیکریٹری شیوم تیواری کر رہے تھے۔ طلبہ کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ایک ویڈیو دیکھا ہے جس میں علاقے میں بکرے ذبح کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ نے دکانداروں سے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا، جس پر مقامی باشندوں اور تاجروں نے جواباً طلبہ سے ان کی شناخت طلب کی۔ اس کشیدگی کے باعث کچھ دکانیں عارضی طور پر بند ہو گئیں۔ تاہم، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسے ’’محمد دیپک‘‘ افیکٹ قرار دیا جارہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ’’جب لوگ تمہیں ڈرانے آئیں تو ان سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان کی آنکھوں سے آنکھیں ملا کر کھڑے ہوجاؤ۔ وہ خود خوفزدہ ہوکر بھاگ جائیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مسلمان ہندوستان میں ’حساس اور آزمائشی دور‘ برداشت کررہے ہیں: میرواعظ

پولیس کا مؤقف
چیت گنج تھانے کے انسپکٹر وجے کمار شکلا نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن کو خط لکھا گیا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ بازار قانونی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال کے مطابق، کاشی وشوناتھ دھام کے دو کلومیٹر کے دائرے میں ذبح خانے اور گوشت کی فروخت پر پابندی ہے، تاہم پولیس کو علاقے میں کسی غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کا ثبوت نہیں ملا۔ پولیس نے بتایا کہ منڈی کے علاقے سے ایک مردہ بکرا ملا تھا۔ مقامی تاجروں کے مطابق جانور کی موت حادثاتی تھی اور لاش وہیں موجود تھی۔

مقدمہ درج
پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ ۳۲۵؍ کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف جانور کو مارنے یا معذور کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ کارروائی ایک تحریری شکایت اور اے بی وی پی ارکان کی جانب سے پیش کردہ ویڈیو مواد کی بنیاد پر کی گئی۔

علاقائی پس منظر
بکرامنڈی کاشی وشوناتھ مندر سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور ایک صدی سے زائد پرانا مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ آس پاس کے دیہی علاقوں سے لوگ یہاں بکرے خریدنے اور فروخت کرنے آتے ہیں۔ ہر سال اکتوبر میں چیت گنج میں نکاتائی میلہ بھی منعقد ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK