Updated: February 09, 2026, 9:09 PM IST
| London
غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران صحافیوں کی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور اطلاعاتی پابندیوں نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی صحافتی تنظیموں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی براہِ راست نشانہ بن رہے ہیں، جبکہ مغربی میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فلسطین سے متعلق مواد کو منظم انداز میں محدود کیا جا رہا ہے، جس سے آزادیٔ صحافت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
غزہ پر جاری اسرائیلی جنگ نے نہ صرف ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی صحافت کو بھی ایک غیر معمولی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ میدانِ جنگ میں صحافیوں کی ہلاکت، زخمی ہونے اور گرفتاریوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر فلسطین سے متعلق معلومات کی ترسیل کو محدود کرنے کے الزامات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔ بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کے مطابق، غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے درجنوں صحافی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں مقامی فلسطینی رپورٹرز کی اکثریت شامل ہے۔ یہ تعداد حالیہ دہائیوں میں کسی ایک تنازع کے دوران صحافیوں کی سب سے زیادہ ہلاکتوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، کئی صحافی اپنے گھروں میں اہلِ خانہ کے ساتھ موجود تھے جب فضائی حملوں نے انہیں نشانہ بنایا، جبکہ متعدد افراد اس وقت مارے گئے جب وہ زمینی صورتحال کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: سپر باؤل ۲۶ء: بیڈ بنی کا پیغامِ اتحاد، ٹرمپ کی تنقید، گلوکار کا انسٹاگرام خاموش
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) اور دیگر اداروں نے خبردار کیا ہے کہ صحافیوں کو ’’ضمنی نقصان‘‘ قرار دینا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافی شہری ہوتے ہیں اور انہیں جنگی حالات میں خصوصی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ اس کے باوجود غزہ میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کیلئے محفوظ راستے، حفاظتی ضمانتیں یا آزادانہ رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ غزہ میں غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث زمینی حقائق تک آزاد رسائی ممکن نہیں رہی۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اطلاعاتی خلا خود ایک انسانی بحران کو جنم دیتا ہے، کیونکہ جب دنیا حقائق نہیں دیکھ پاتی تو جواب دہی کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔
میدانِ جنگ سے باہر، ایک اور محاذ پر بھی صحافت دباؤ کا شکار ہے۔ متعدد میڈیا واچ ڈاگ اداروں اور ڈیجیٹل رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ فلسطین سے متعلق مواد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر منظم طریقے سے محدود، حذف یا کم نمایاں کیا جا رہا ہے۔ صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور آزاد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ ان کی پوسٹس کی رسائی اچانک کم ہو جاتی ہے، اکاؤنٹس معطل ہو جاتے ہیں یا مواد کو ’’کمیونٹی گائیڈ لائنز‘‘ کے نام پر ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے مغربی میڈیا کے کردار پر بھی سوالات کھڑے کئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑے بین الاقوامی میڈیا ادارے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کو غیر واضح اصطلاحات میں بیان کرتے ہیں، جبکہ اسرائیلی بیانیے کو زیادہ جگہ دی جاتی ہے۔ اس پر صحافتی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا عالمی میڈیا طاقتور ریاستوں کے سامنے خود ساختہ سنسرشپ کا شکار ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ انتخابات: بھوم جے تھائی پارٹی کو فیصلہ کن فتح، نیا حکومتی دور متوقع
دوسری جانب، کئی مغربی صحافیوں نے اعتراف کیا ہے کہ فلسطین سے متعلق رپورٹنگ کے دوران انہیں ادارہ جاتی دباؤ، ملازمت کے خطرات اور عوامی مہمات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض رپورٹرز کو آن ایئر بیانات یا سوشل میڈیا سرگرمیوں کی بنیاد پر معطل کیا گیا، جسے صحافتی آزادی کیلئے خطرناک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، صحافیوں پر حملے اور معلومات تک رسائی کی بندش بین الاقوامی انسانی قانون، جنیوا کنونشنز اور آزادیٔ اظہار کے عالمی معیارات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگی حالات میں آزاد صحافت کو تحفظ نہ دیا گیا تو مستقبل میں کسی بھی تنازع میں سچ تک رسائی مزید مشکل ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: پرتگال صدارتی انتخاب: اینٹونیو جوزے سگیرو ۶۶؍ فیصد ووٹ سے فاتح
عالمی صحافتی برادری اب مطالبہ کر رہی ہے کہ غزہ میں صحافیوں کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، غیر ملکی میڈیا کو رسائی دی جائے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز معلوماتی سنسرشپ کے الزامات پر شفاف جواب دیں۔ مبصرین کے مطابق، یہ بحران صرف غزہ یا فلسطین تک محدود نہیں بلکہ یہ اس سوال سے جڑا ہے کہ جنگ کے وقت سچ کو بیان کرنے کی اجازت کس حد تک دی جاتی ہے۔ غزہ کی جنگ اس اعتبار سے بھی ایک فیصلہ کن موڑ بن چکی ہے کہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ جدید تنازعات میں صحافی محض مبصر نہیں رہے، بلکہ خود خبر بن چکے ہیں،اور یہی حقیقت عالمی ضمیر کیلئے سب سے بڑا امتحان ہے۔