Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی کے۱۶؍ سالہ شوٹر شلوک ہجارے کو ۲؍لاکھ کی مدد، بین الاقوامی آغاز

Updated: August 10, 2026, 7:07 PM IST | Mumbai

ممبئی کے نوجوان شوٹر شلوک ہجارے نے صرف ۱۶؍ سال کی عمر میں بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کرکے کھیلوں کی دنیا میں اپنی شناخت بنانی شروع کردی ہے۔ چیک ریپبلک میں ہونے والےگراں پری آف پزیل میں ہندوستان کی جانب سے ان کا انٹرنیشنل آغاز ہوا۔

Shlok Hajare And Others.Photo:INN
شلوک ہجارے اور دیگر۔ تصویر:آئی این این

ممبئی کے نوجوان شوٹر  شلوک ہجارے  نے صرف ۱۶؍ سال کی عمر میں بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کرکے کھیلوں کی دنیا میں اپنی شناخت بنانی شروع کردی ہے۔ چیک ریپبلک میں ہونے والےگراں پری آف پزیل  میں ہندوستان کی جانب سے ان کا انٹرنیشنل  آغاز ہوا، جس کے بعد انہیں ۲؍لاکھ کی مالی معاونت بھی دی گئی۔  
کم عمری میں بڑی کامیابی
شلوک ہجارے کا بین الاقوامی  آغاز اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ شوٹنگ ایک ایسا کھیل ہے جس میں اعلیٰ سطح پر پہنچنے کے لیے طویل تربیت، مسلسل مقابلوں اور مہنگے آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔۱۶؍ سال کی عمر میں ہندوستان کی نمائندگی کرنا ان کے کریئر کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔چیک ریپبلک میں  پزیل گراں پری  میں شرکت نے انہیں بین الاقوامی شوٹنگ کے ماحول اور دنیا کے مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلے کا تجربہ فراہم کیا۔

یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی کے والد جارج میسی سپردِ خاک، نجی تقریب میں خاندان اور قریبی عزیزوں کی شرکت

۲؍ لاکھ کی مالی مدد کیوں اہم ہے؟
شلوک کو ملنے والی ۲؍لاکھ کی مدد ان کے مستقبل کے کھیل کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ شوٹنگ میں رائفل یا پستول جیسے اسپورٹس آلات کے علاوہ گولیاں، کوچنگ، ٹریننگ کیمپ، سفری اخراجات اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے اخراجات بھی خاصے زیادہ ہوتے ہیں۔نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اس طرح کی مالی معاونت انہیں کھیل پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے اور بین الاقوامی سطح پر مزید مقابلوں میں شرکت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اے آر رحمان کے بیٹے اے آر امین چنئی میں کار حادثے کا شکار، معمولی چوٹ آئی

ہندوستان کے لیے نئی امید
ہندوستان نے گزشتہ برسوں میں شوٹنگ کے میدان میں اولمپکس، عالمی چیمپئن شپ اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایسے میں شلوک جیسے نوجوان کھلاڑیوں کا ابھرنا بھارتی شوٹنگ کے مستقبل کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ ان کا ابتدائی بین الاقوامی تجربہ انہیں مستقبل میں بڑے مقابلوں کے لیے تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ خاص طور پر کم عمری میں عالمی سطح کے ماحول سے واقفیت حاصل کرنا ان کے اعتماد اور تکنیکی صلاحیت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
 شلوک کے لیے اگلا ہدف کیا ہوگا؟
اب شلوک کی توجہ مسلسل ٹریننگ، قومی سطح کے مقابلوں میں بہتر کارکردگی اور مزید بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے پر ہوگی۔ ۱۶؍ سال کی عمر میں ان کے پاس اپنے کھیل کو نکھارنے کے لیے کئی سال موجود ہیں۔ ممبئی سے ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے اس نوجوان شوٹر کی کہانی ابھی شروعاتی مرحلے میں ہے، لیکن  ۲؍ لاکھ کی یہ مدد اور بین الاقوامی  آغاز ان کے کھیل کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ضرور بن گئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK