Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی سینٹرل بریج کا نیا ڈیزائن آسانی سے زیادہ پریشانی کا سبب !

Updated: April 10, 2026, 12:22 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

شہریوں نے ۴؍طرح کی پریشانیاں بتائیں۔کہا: اس کی وجہ سے ممبئی سینٹرل کی خوبصورتی ختم ہوگئی ہے ۔ بس اورٹیکسی میں سوار ہونے کا مسئلہ ہوگیا ہے۔ ٹرین سے اترکربریج تک جانا بھی بڑی دشواری کا باعث ہے

Citizens on Mumbai Central`s Belassi Bridge are not getting the same transportation facilities as before.
ممبئی سینٹرل کے بیلاسس بریج پرشہریوں کو آمدورفت میں پہلے جیسی سہولت نہیں مل رہی ہے۔ (تصویر: انقلاب)

مبئی میونسپل کارپوریشن کے ذریعے تعمیر کردہ ۳۳؍ میٹر لمبا  ممبئی سینٹرل  کا بیلاسس روڈ بریج آسانی سے زیادہ شہریوں کیلئے پریشانی کا سبب بن گیا ہے۔ شہریوں نے اس کی ۴؍ اہم وجوہات بتائیں۔ اوّل یہ کہ نئے بریج  سے ممبئی سینٹرل کی خوبصورتی ختم ہوگئی، دوسرے عام آدمی کی سہولت کی خاطر بس اور ٹیکسی وغیرہ میں سوار ہونے کا رابطہ ختم ہوگیا، تیسرے صحیح طریقے سے تعمیر نہ کئے جانے کے سبب بریج پرگاڑیاں اچھلتی ہیں اور چوتھے ممبئی سینٹرل اسٹیشن سے اترکر بریج پر آنے کے لئے بزرگ شہریوں اور خواتین کو کافی دقت ہوتی ہے ، انہیں کئی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں ۔
 ان مسائل سے قطع نظربریج کی تعمیر وقت پر کی گئی ، خرچ بھی نہیںبڑھا ، البتہ تعمیر کے بعد افتتاح کےلئے شہریوں کو سیاسی لیڈران کا ضرور انتظار کرنا پڑا تھا۔
  ممبئی سینٹرل میں مقیم افسر احمد شیخ نےنمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئےکہا کہ’’ کوئی  بھی تعمیر یا چیز شہریوں کی سہولت کے لئے ہوتی ہے ۔اس تناظر میں اگر ہم ممبئی سینٹرل اسٹیشن کے نئےبریج کو دیکھیں تو پہلے کے مقابلے نیا بریج سہولت سے زیادہ پریشانی کا سبب بن گیا ہے۔ ‘‘ اس تعلق سے انہوں نے بالترتیب مسائل گنوائے۔  انہوں نے کہا کہ نیا بریج دیکھنے میں اچھا لگتا ہےمگر پہلے اسٹیشن سےنکلنے کےبعد مسافروں کو بس یا ٹیکسی مل جایا کرتی تھی اور بس اسٹاپ اسٹیشن کے بالکل سامنےتھا مگر اب بس اسٹاپ کوختم کردیا گیا ہے ۔بس پکڑنے کیلئے تاڑدیو کی جانب یا پھرممبئی سینٹرل ڈپو کے قریب جانا پڑتا ہے ۔ یہیں سے ٹیکسی بھی ملتی ہے کیونکہ درمیان میںجگہ ہی نہیں چھوڑی گئی ہے کہ مسافر ٹیکسی وغیرہ رکوا کر سوار ہوسکیں۔ اسی طرح ممبئی سینٹرل سے تاڑدیو جانے کےلئے ناتھانی گروپ کی عمارت سے متصل بس اسٹاپ بنایا گیا ہے جس سے اگر ایک سے زائد بسیں آجائیں تو ٹریفک جام ہوجاتا ہے ۔اس کے علاوہ پیدل چلنے والوں کیلئے جو فٹ پاتھ چھوڑی گئی ہے، وہ بھی بہت تنگ ہے اورصحیح طریقے سےبنائی بھی نہیںگئی ہے جس سے چلنے میں دشواری ہوتی ہے ا وربارش میں تواور بھی مسئلہ ہوگا ۔‘‘
 ممبئی سینٹرل کے پوتیا کمپاؤنڈ میںمقیم مولانا محمدطلحہ سلیم سیلیا نے کہاکہ’’ دیکھنے سے لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ ممبئی سینٹرل کا بریج ہے۔پہلے اس بریج سے ریلوے کا مضبوط رابطہ تھا جس سے مسافروں اور شہریوں کو کافی آسانی ہوتی تھی لیکن اب ترقی اورنئے ڈیزائن کے نام پر اسے ختم کردیاگیا ہے۔ دوسرے جب تاڑدیو کی جانب اترتے ہیںتو وہاں نیوہائی کلاس ہوٹل سے قبل نانا چوک اورتلسی واڑی جانے کےلئے جوراستہ ہے ، وہاں اکثر ٹریفک جام ہوجاتا ہے جو کہ پہلے نہیںہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نیا بریج بننےاورشروع کئے جانے کےباوجود شہری اس سے اس طرح فائدہ نہیںاٹھاپارہے ہیں جس طرح پہلے اٹھایاکرتے تھے۔پہلے لوگوں کو ریلوے کے ساتھ بس اور ٹیکسی وغیرہ کی سہولت اسٹیشن کے سامنے ہی میسر تھی مگر اب اس کے لئے انہیں دور تک پیدل چلنا ہوتا ہے، ان مسائل کی روشنی میں شہری انتظامیہ خود جائزہ لے سکتاہے کہ سہولت ہورہی ہے یادقت۔‘‘ 
 تاڑ دیو میں رہنے والے عبدالرحمٰن انصاری نے بتایا کہ’’ٹرین سےاترکر بریج کی سمت آنے والے بزرگ مسافروں کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ بسااوقات بزرگ مسافر اوران کے ہمراہ آنے والے سخت برہم ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ مغلظات بکنے لگتے ہیںکہ کس نے بریج کاڈیزائن کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسٹیشن سےباہرنکلنے کےبعد کئی سیڑھیاں چڑھ کربریج تک آنا ہوتا ہے اوریہ بزرگ شہریوں کےلئے آسان نہیںہوتا ۔ ‘‘ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ پہلے ڈیوائیڈر نہیں تھا، اب ڈیوائیڈر بنادیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے فٹ پاتھ بہت تنگ ہوگیا ہےجس سے پیدل چلنے والوں کو کافی پریشانی ہوتی ہے۔ اس لئے خوبصورتی اور وقت پر کام پورا کرنے کے ساتھ یہ ضروری ہےکہ شہریوں کی سہولت کو بنیادی طورپر دھیان میں رکھا جائے ورنہ کوئی چیز بن  تو جائے گی لیکن شہری اس سے استفادہ نہیں کرپائیں گے ، یہی ممبئی سینٹرل نئے بریج کا حال ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK