ممبئی پولیس کے اینٹی نارکوٹکس سیل نے منشیات کے خلاف جاری مہم میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ٹٹوالا کے ایک پرتعیش رہائشی کمپلیکس میں چھاپہ مار کر ۶ ؍کروڑ روپے مالیت کی ممنوعہ منشیات برآمد کر لی ہیں۔
ملزمہ۔ تصویر:آئی این این
ممبئی پولیس کے اینٹی نارکوٹکس سیل نے منشیات کے خلاف جاری مہم میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ٹٹوالا کے ایک پرتعیش رہائشی کمپلیکس میں چھاپہ مار کر ۶ ؍کروڑ روپے مالیت کی ممنوعہ منشیات برآمد کر لی ہیں۔ اس کارروائی کے دوران ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر شہر کے ہائی پروفائل حلقوں اور پارٹیوں میں منشیات سپلائی کرنے والے نیٹ ورک کی اہم کڑی بتائی جاتی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس گرفتاری سے ممبئی اور مضافاتی علاقوں میں پھیلے منشیات کے ایک بڑے سنڈیکیٹ کو بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی۔تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی نیسکو ڈرگس پارٹی کیس کی کڑیوں کو جوڑتے ہوئے عمل میں آئی۔ چند روز قبل اینٹی نارکوٹکس سیل کے گھاٹ کوپر یونٹ نے ساکی ناکہ میں چھاپہ مار کر عرفان انصاری نامی شخص کو ۲۰۰ ایکسٹیسی گولیوں کے ساتھ حراست میں لیا تھا۔ دوران تفتیش عرفان نے اے پال نامی خاتون کا انکشاف کیا جس کے بعد پولیس نے تکنیکی شواہد کی بنیاد پر ٹٹوالا کی ایک ہائی پروفائل سوسائٹی میں جال بچھایا۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس نوناتھ ڈھولے کی نگرانی میں جب انسپکٹر انیل ڈھولے اور ان کی ٹیم نے مذکورہ خاتون کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہاں کا منظر دیکھ کر خود پولیس حکام بھی حیران رہ گئے۔ خاتون کے قبضے سے ۵ ہزار ایکسٹیسی گولیاں برآمد ہوئیں، جن کی عالمی مارکیٹ میں مالیت ۶ ؍کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ ان گولیوں پر مرسڈیز اور ڈالرجیسے نشانات کندہ ہیں جو مخصوص برانڈنگ کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں ۔پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمہ اے پال ماضی میں ڈانس بار میں کام کرتی تھی جہاں اس کا رابطہ منشیات فروشوں سے ہوا۔ ملزمہ کے قبضے سے ۵؍ موبائل فون اور ۸ ؍مختلف سم کارڈز برآمد ہوئے ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس کا شوہر پہلے ہی جرائم کی دنیا سے وابستہ ہے جس کی ہسٹری کھنگالی جا رہی ہے۔
کوسہ کے کالسیکر ڈگری کالج کو ریاستی محکمہ اعلیٰ تعلیم کا نوٹس
کوسہ میں واقع اے ای کالسیکر ڈگری کالج حکومت کی اسکیم کے مطابق غریب طالبات کو فائدہ نہیں دے رہا ہے ۔ اسکیم کے مطابق کالج کو اہل طالبات کی ٹیوشن فیس طالبات سے وصول نہ کرتے ہوئے حکومت سے لینا چاہئے لیکن وہ طالبات سے ہی لے رہا ہے۔ اسکیم کے تعلق سے بتانے کے باوجو د وہ کالج انتظامیہ ا سے ماننے کو تیار نہیں ہوا ۔ اس سلسلے میں انقلاب میں خبر شائع ہونے اور اہل طالبات کی جانب سے حکومت مہاراشٹر کے اعلیٰ تعلیم کے افسران کو شکایت کرنے کےبعد کوکن ڈویژن(جس کے تحت کوسہ کالسیکر کالج آتا ہے ) کے جوائنٹ ڈائریکٹر نے کالسیکر کالج سے جواب طلب کیا ہے ۔ واضح رہے کہ انقلاب کے ۱۱؍ اپریل کے شمارے میں تفصیلی خبر شائع ہوچکی ہے۔ کالج کو جو نوٹس دیا گیاہے ،اس میں کالج انتظامیہ سے پوچھا گیا ہےکہ حکومت کی اسکیم کا فائدہ نہ دینے سے متعلق ہمیں طالبہ سے شکایت موصول ہوئی ہے۔ حکومت کی اسکیم کے مطابق فوراً ضروری کارروائی کی جائے اور کیا کارروائی کی گئی ہے، اس بارے میں دفتر کو بھی مطلع کیاجائے۔
واضح رہے کہ کئی ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جن میں فیس ادا نہ کر پانے کی وجہ سے غریب لڑکیوں نے تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ اسی ڈراپ آؤٹ کو روکنے کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے گزشتہ تعلیمی سال سے ایک اسکیم شروع کی گئی ہے جس کے تحت ایسی طالبات جن کے کنبہ کی سالانہ آمدنی ۸؍ لاکھ روپے سے کم ہے ،ا ن سے ٹیوشن اور امتحان فیس لئے بغیر کالج کو داخلہ دینا ہوگا اور یہ دونوں فیس حکومت کالج کو ادا کرے گی۔ یہ اسکیم ڈگری کالج اور خصوصی طور پر پیشہ ورانہ کورسیز کرنے والی طالبات کیلئے شروع کی گئی ہے لیکن کالسیکر کالج نے اس اسکیم سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے نافذکرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد نمائندۂ انقلاب نے کالج انتظامیہ کو اسکیم کے تعلق سے بتایا تھا ۔