عام شہریوں سے بات چیت کرنے پر ان کا جواب تھاکہ ہاں، سن رہےہیں کہ ایس آئی آر ہوگا مگرکیا ہے، کیسے ہوگا اورکہاں جانا ہوگا؟ اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 2:55 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
عام شہریوں سے بات چیت کرنے پر ان کا جواب تھاکہ ہاں، سن رہےہیں کہ ایس آئی آر ہوگا مگرکیا ہے، کیسے ہوگا اورکہاں جانا ہوگا؟ اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) کی تشہیرہورہی ہے مگر عام شہری اس سے زیادہ واقف نہیں ہے۔ اس وقت ممبئی اور ریاست گیر سطح پراس تعلق سےالگ الگ انداز میں مہم چلائی جارہی ہے۔ بی ایل اوکی تقرری کے مسائل ہیں، میپنگ کرنے میں تاخیر ہورہی ہے اور مختلف تنظیمیں مفاد عامہ میں اس کام پرلگی ہوئی ہیں۔ اس طرح کوشش کی جارہی ہے کہ ہر شہری تک آواز پہنچے اوروہ اس کا حصہ بنے تاکہ اس کا حق رائے دہی محفوظ رہے۔
نمائندۂ انقلاب نے اس کا جائزہ لینے اوریہ معلوم کرنے کےلئے کہ عام شہری ایس آئی آر کےتعلق کتنی معلومات رکھتا ہے اوروہ اس عمل کا حصہ بننے کے لئے ذہنی طور پر کس قدر تیار ہے، آٹو رکشا ڈرائیور، سبزی فروش، پلمبر، کرایہ دکان چلانے والے اورچھوٹاموٹا کاروبار کرنے والوں سے بات چیت کی۔ لوگوں کا یہی جواب تھا کہ ہاں، لوگوں سے سن رہے ہیں کہ ایس آئی آر ہوگا،کبھی موبائل پر دیکھتے ہیں مگر یہ کیا ہے،کیسے ہوگا اور کیا ہوگا؟ اس کی جانکاری نہیں ہے۔ اس لئے الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کی خاطر خواہ طریقے سے تشہیر اور لوگوں تک معلومات پہنچانے کی ضرورت ہےتاکہ ایک بھی شہری چھوٹنے نہ پائے۔
یہ بھی پڑھئے: نفرت کے خلاف پیغامِ محبت، جیوتی با پھلے کی ۲۰۰؍ ویں جینتی پر ماہم میں امن ریلی
ایس آئی آر کی حقیقت عا م لوگوں کی زبانی
کرایہ کی دکان چلانے والے محمدسلیم انصاری سے استفسار کرنے پران کا کہناتھا کہ ’’ صرف اتنا معلوم ہے کہ ایس آئی آر ہوگالیکن یہ نہیں معلوم ہے کہ کیسے ہوگا اورہمیں کہاں جانا ہوگا، نہ ہی اس تعلق سے کسی سرکاری افسر نےہمیں معلومات دی ہے۔ بس لوگوں کی زبانی سن رہے ہیں۔ ‘‘
بلڈنگ میٹریل فروخت کرنے والے عبدالرحمٰن شیخ نےبتایاکہ’’ مجھے توکچھ نہیں معلوم ہے۔ آپ کو معلوم ہے تو بتائیے۔ دوست لوگ کہتے ہیں کہ ایس آئی آر ہوگا، میری تووالدہ گاؤں گئی ہوئی ہیں اور وا لد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، مجھے کیا کرناہوگا کوئی معلومات نہیں ہے؟‘‘
آٹو رکشا ڈرائیور محمد حاجی شیخ نے کہاکہ ’’ مجھے معلوم نہیں ہے کہ ایس آئی آر کیا ہے، سنا ہے کہ کوئی کاغذ نکالناہوگا۔ اس کےلئے شایدسائبر کیفےجانا ہوگا۔ اگر کوئی گائیڈ کرے یا گورنمنٹ کی طرف سے معلومات دی جائے توہمارے جیسوں کو بھی معلوم ہوجائے گا ورنہ بہت سے لوگ تو رہ جائیں گے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا سروے یکم مئی سے شرو ع ہو گا
محمد علیم پٹھان (پلمبر) نے کہا کہ ’’ زیادہ معلومات نہیں ہے، میرے والد بتارہے تھے کہ کچھ لوگوں کے نام کاٹے جائیں گے۔ انہوں نے اورنگ آباد میں تحصیل جاکرمیرا نام بھی لکھوایا ہے جبکہ میری بیوی کا نام ووٹرلسٹ میں ممبئی میں ہے۔ ایسے میں صحیح معنوں میں میں یہ سمجھ نہیں پایا ہوں کہ ایس آئی آر کیاہے اور کب ہوگا اورہمیں کیا کرنا ہوگا۔ ‘‘
سبزی فروش سید ظہیر احمد نےبتایاکہ’’ مجھے اتنا معلوم ہے کہ نئی ووٹر لسٹ بنائی جائےگی، اس کےلئے نام جوڑے جائیں گے، غلط نام درست کئے جائیں گے اور جو لوگ ادھر ادھر رہتے ہیں اگرانہوں نےصحیح معلومات نہیں دی توان کا نا م کاٹ دیا جائے گا۔ ویسے بھی میں یہ سمجھتا ہوں، ٹی وی پر جو خبریں آتی ہیں اور ویڈیو وغیرہ دکھائےجاتے ہیں اس سے ایسا لگتا ہےکہ مسلمانوں کا نام کاٹنے کے لئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے۔ ورنہ آخر ایسے وقت میں جبکہ اسکولوں کی چھٹی ہونے والی ہے، اس کی کیا ضرورت تھی؟ بہت سے لوگ گاؤں چلے جائیں گے، گھر پر نہیں ملیں گے توان کانام کاٹ دیا جائے گا۔ ‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’اس کے علاوہ ایک عام شہری جو دو وقت کی روٹی کےلئے پریشان ہے، میں سمجھتا ہوں کہ وہ یہ طے کئے ہوئے ہے کہ جو ہونا ہے ہوگا،اس کی صحت پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے۔ ‘‘