Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھی زبان کے تنازع پر ایڈوکیٹ سداورتے اور ایم این ایس کارکنان میں تصادم

Updated: April 24, 2026, 10:53 AM IST | Sajid Mehmood Shaikh / Saadat Khan | Mumbai

رکشا ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی بولنا اور پڑھنا لازمی قرار دینے کے فیصلے کی مخالفت کیلئے گنرتن سداورتے میرا بھائندر پہنچے جہاں ایم این ایس کارکنوں نے انہیں گھیر لیا۔ پولیس نے حالات پر بمشکل قابو پایا۔

Police taking MNS workers into custody. Photo: INN
ایم این ایس کارکنان کو پولیس تحویل میں لیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

میرا بھائندر میں رکشا ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان پڑھنا اور بولنا  لازمی قرار دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے نے اب سنگین اختیار کر لیا ہے۔ جمعرات کو بھائندر میں اس وقت شدید کشیدگی پھیل گئی جب مشہور وکیل گنرتن سداورتے اس فیصلے کے خلاف رکشا ڈرائیوروں کی حمایت میں پہنچے۔ اس دوران مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں نے انہیں گھیر لیا جس کے بعد دونوں گروہوں میں جم کر نعرے بازی اور دھکا مکی ہوئی۔ پولیس نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے سداورتے کو بحفاظت وہاں سے نکالا۔

واضح رہے کہ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے حال ہی میں یہ حکم جاری کیا ہے کہ یکم مئی سے رکشا ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان کا جاننا لازمی ہوگا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ مراٹھی نہ بول پانے والے ڈرائیوروں کے پرمٹ منسوخ کر دیئے جائیں۔ اس فیصلے کی مخالفت کرنے کیلئے وکیل گنرتن سداورتے بھائندر پہنچے تھے جہاں انہوں نے ریاستی وزیر کو یہ فیصلہ واپس لینے کا انتباہ دیا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران سداورتے نے ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ رکشا ڈرائیوروں کو ڈرانے دھمکانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو مراٹھی سکھانے میں ۲؍ اداروں نے دلچسپی ظاہر کی

جیسے ہی یہ خبر پھیلی، ایم این ایس کے عہدیدار اور کارکنان بڑی تعداد میں وہاں پہنچ گئے اور سداورتے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے حالات اتنے کشیدہ ہو گئے کہ پولیس کو اضافی نفری طلب کرنی پڑی۔ پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ایڈووکیٹ گنرتنا سداورتے نے مراٹھی زبان لازمی قرار دینے کی پالیسی پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن کے وقت پرتاپ سرنائک کو ہندی زبان کی ضرورت پڑتی ہے لیکن جیسے ہی انتخابات ختم ہو جاتے ہیں، وہ لوگوں کو بہار جانے کو کہتے ہیں۔ چاہے کوئی بہار سے ہو، شمالی ہند سے ہو یا گجرات سے۔ اگر تم ہمیں یہاں سے جانے کا کہو گے تو ہم تمہیں وزیر کے عہدے سے جانے کا کہیں گے۔ آئین کے ہوتے ہوئے کسی میں اتنی ہمت ہےکہ ہمیں زبان کے نام پر ہراساں کرے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ آئین کے خلاف جانے والی ایسی سیاست مٹی میں مل جائے گی۔ آخر میں انہوں نے نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے سے مطالبہ کیا کہ وہ پرتاپ سرنائک کی اس معاملے میں سخت سرزنش کریں۔

یہ بھی پڑھئے: پرتاپ سرنائک اور رکن اسمبلی نریندر مہتا میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

 آٹو رکشااسوسی ایشن کا فیصلے کے خلاف احتجا ج کااعلان۔ سماجی اور مراٹھی اداروںکا فیصلے کی حمایت میں سڑک پر اُترنے کا انتباہ۔ بی جے پی رکشا اسوسی ایشن کا ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی کلاس شروع کرنے کا اعلان 

ممبئی :رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے یکم مئی سے مراٹھی بولنا اور پڑھنا لازمی کر نے کافیصلہ دن بہ دن متنازع بنتا جا رہا ہے ۔ ایک طرف رکشا ڈرائیوروں کی تنظیمیں اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کی دھمکی دے رہی ہیں تو دوسری جانب سماجی اور مراٹھی ادارے فیصلے کی حمایت میں سڑکوں پر اُترنے کا انتباہ دے رہے ہیں۔ اس دوران بی جے پی رکشا اسوسی ایشن نے ڈرائیوروں کو مراٹھی سکھانےکی کلاس شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ 

آٹو رکشا ڈرائیورز اونرس اسوسی ایشن کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ریاست میں تقریباً ۱۵؍ لاکھ رکشے ہیں اور تمام ڈرائیوروں نے قوانین پر عمل کرتے ہوئے لائسنس حاصل کئے ہیں ۔ ایسے میں اگر مراٹھی کو لازمی قرار دے کر لائسنس منسوخ کرنے کا اچانک فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس سے ان کے روزگار کا مسئلہ ہو گا۔ چنانچہ اس فیصلے کو فوری طورپر واپس لینا چاہئے ۔ اس مطالبےپر ریاست کے آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی طرف سے دستخط شدہ میمورنڈم ۲۸؍اپریل کووزیر ٹرانسپورٹ کو پیش کیا جائے گا ۔ اس کے بعد بھی اگر فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو ۴؍مئی سے ہر روز شہری اور دیہی علاقوں میں بڑے مقامات پر احتجاج کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے ۔

رکشا یونین کے لیڈرششانک راؤ نے کہا کہ آر ٹی او قوانین کے مطابق پرمٹ حاصل کرنے کیلئے پہلے ہی کچھ شرائط لازمی ہیں جن میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، پولیس ویریفکیشن اور مقامی زبان (مراٹھی) کا عملی علم شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ تمام شرائط پوری کرنے کے بعد ہی پرمٹ جاری کئے گئے تو اب  زبان کی جانچ کے نام پر پرمٹ منسوخ کرنے کی دھمکی دینا غیرقانونی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک تقریباً ۱۵؍ لاکھ رکشا اور ٹیکسی ڈرائیور سڑکوں پر موجود ہیں، تب تک اولا، اوبر اور بائیک ٹیکسی جیسی نجی کمپنیاں زیادہ منافع نہیں کما سکتیں۔ ان کے مطابق یہ سخت قوانین روایتی رکشا کاروبار کو ختم کر کے نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: عازمین حج کی روانگی کے دوران مسائل کی بھی شکایتیں

حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم

دریں اثناء ممبئی ڈبہ والا اسوسی ایشن کے صدر سبھاش تیلیکر نے حکومت کے مذکورہ فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں رکشا اور ٹیکسی ڈرائیور کاروبار کر رہے ہیں، اس لئے انہیں مراٹھی آنی چاہئے۔ 

مراٹھی ایلکرن سمیتی کے صدر گوردھن دیشمکھ نے کہا ہے کہ ’’مراٹھی کی کھلم کھلا مخالفت کرنے والوں کا براہ راست مقابلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مشترکہ مراٹھی لڑائی پھر شروع ہو گئی ہے ۔ مراٹھی کے خلاف کھلا احتجاج ہو ا اور ہم خاموش رہیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔ یہ جنگ نہیں ہارنی چاہئے۔ ۲؍ لاکھ مراٹھی بولنے والے رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی کو لازمی قرار دینے کے حکومت کے فیصلے کی حمایت کیلئے سڑکوں پر اُترنا چاہئے۔ جو فیصلہ ہو چکا ہے اسے مستقل رہنا چاہئے ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: چال کے ایک کمرہ سے ایم بی بی ایس تک، ڈاکٹر عدنان انصاری کاسفرجدوجہدبھرارہا

رکشا اورٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی کلاس

بی جے پی ٹیکسی رکشا اگھاڑی سیل نے غیر مراٹھی ڈرائیوروں کیلئے خصوصی مراٹھی کلاس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس اقدام کے ذریعے رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو مراٹھی زبان سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ ٹریننگ میں ڈرائیوروں کو روزمرہ استعمال کیلئے آسان مراٹھی گفتگو سکھائی جائے گی ۔ مثلاً کہاں جا رہے ہو ،بیٹھو ،چلو چھوڑتے ہیں اور اتنی رقم خرچ ہو گئی جیسے جملے سکھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مسافروں کے ساتھ شائستگی سے بات کرنے اور صحیح الفاظ کے استعمال کے بارے میں بھی رہنمائی کی جائے گی۔ بی جے پی ٹیکسی رکشا اگھاڑی سیل کے صدر کے کے تیواری کے مطابق ’’اس کلاس کےذریعے مختصر وقت میں زیادہ سے زیادہ ڈرائیوروں کو تربیت دی جائے گی۔ اس اقدام سے مسافروں اور ڈرائیوروں کے درمیان رابطے میں حائل رکاوٹیں کم ہو جائیں گی۔ مراٹھی نہ جاننے والوں کی فہرست تیار کی جائے گی اور مختلف علاقوں میں جاکر اس کی تصدیق کے بعد مراٹھی پڑھانا شروع کیا جائے گا۔ یہ مہم اگلے ہفتے سے شروع ہوگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ۸۰؍ فیصد رکشا اور ٹیکسی ڈرائیور مراٹھی جانتے ہیں جبکہ باقی ڈرائیوروں کو مراٹھی کمیونیکیشن سکھائی جائے گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK