سریکھا وانی نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’’یہ ہے اصل ناری شکتی ! سپر وومن ۔‘‘کاویا نامی خاتون صارف نے مذکورہ معاملے پر برہم انداز میں ایکس پر لکھا کہ ’’اس بہادر خاتون نے بہت اچھا کام کیا۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 11:38 AM IST | Azhar Mirza | Mumbai
سریکھا وانی نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’’یہ ہے اصل ناری شکتی ! سپر وومن ۔‘‘کاویا نامی خاتون صارف نے مذکورہ معاملے پر برہم انداز میں ایکس پر لکھا کہ ’’اس بہادر خاتون نے بہت اچھا کام کیا۔
’’مجھے مسئلہ ہے ، میں ایک گھنٹے سے اس روڈ پر کھڑی ہوں؟ آپ کوبولنا ہے، میدان میں جاکر بولئے، ٹریفک کو یوں روکتے نہیں، یہاں سے دفع ہوجائیے ....‘‘
مذکورہ بالا الفاظ سوشل میڈیا پر ۲؍ دنوں سے گونج رہے ہیں۔ رِیلز ، شارٹس ، پوسٹس کے ذریعہ لوگ ورلی کی اس خاتون کی پزیرائی کررہے ہیں، جس نےسیاسی احتجاج کیلئے اہم راستہ بند کئے جانے پر ریاستی وزیر گریش مہاجن، پولیس اور بی جے پی کارکنان کو کھری کھری سنادی۔ ’’ناری شکتی دہاڑی، وومن پاور‘سپر وومن، ماں کی آواز ‘‘جیسے کیپشن دے کر انسٹاگرام پر مذکورہ واقعے کے ویڈیوز شیئر کئے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان: ایمرجنسی ایمبولنس پہنچنے میں تاخیر کا الزام، معمر خاتون نے دم توڑ دیا
’نیٹیزنس‘کی اکثریت نے اس خاتون کی جھنجلاہٹ ، غیظ و غضب اور بیباکی کی ستائش کی اور اسے عام آدمی کی آواز قرار دیا۔ ویڈیوشیئرنگ پلیٹ فارم ’انسٹا گرام‘ پر ’دیش ڈاٹ اَن فلٹرڈ‘ہینڈل سے مذکورہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس خاتون کو ’سپروومن ‘قرار دیا گیا۔ اس ویڈیوکو ۲۳؍ہزار سے زائد صارفین ’لائک ‘کرچکے ہیں اور اس پر تقریباً ۵؍ ہزار تبصرے آچکے ہیں۔ ان میں کسی نے اس خاتون کو ’بہادر‘ کہاتو کسی نے’نڈر‘، کسی نے کہا کہ ’’ایک مہیلا سب پر بھاری۔بہت خوب دیدی ‘‘ایک صارف نے اسے ’’مورچہ شکتی بمقابلہ ناری شکتی‘‘ قرار دیا ۔
فیس بک پر سُجاتا بھاوے نامی صارف نے اپنی پوسٹ میں انگریزی کاقول ( مفہوم):’’اگر آپ کسی بات کیلئے کھڑے نہیں ہوسکتے تو آپ ہر بات کو تسلیم کرسکتے ہیں۔‘‘شیئر کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ’’اس خاتون نے ہمت کا کام کیا ہے۔‘‘ ویلنٹین فونسیکا نامی خاتون نے لکھاکہ ’’اس خاتون کو سلام جس نے سیاست دانوں کی طرف سے اپنے مفاد کیلئے سڑکوں پر جاری سیاسی ڈرامے بازی کے خلاف آواز اٹھائی، ساتھ ہی ان نام نہاد اندھ بھکتوں اور یومیہ اجرت پر سیاسی ورکری کرنے والوں کو بھی آئینہ دکھایا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مراٹھی زبان کے تنازع پر ایڈوکیٹ سداورتے اور ایم این ایس کارکنان میں تصادم
سریکھا وانی نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’’یہ ہے اصل ناری شکتی ! سپر وومن ۔‘‘کاویا نامی خاتون صارف نے مذکورہ معاملے پر برہم انداز میں ایکس پر لکھا کہ ’’اس بہادر خاتون نے بہت اچھا کام کیا۔ سیاستدانوں کو ان کی اوقات دکھانی چاہئے۔‘‘ٹی کے سرینیواس نےتبصرہ کیا کہ ’’ ایک اکیلی خاتون نے اس تکلیف پر وزیر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس طرح کی سڑک بندش پورے ملک میں غیر ذمہ دار سیاست دانوں کی طرف سے کی جاتی ہے، جو خود کو سب سے برتر سمجھتے ہیں۔ اس خاتون کی ہمت کی داد دینی چاہیے۔‘‘ نیلیش پانڈے نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’’اس خاتون کی پزیرائی کی جانی چاہیے جس نے عام لوگوں کیلئے ایک مثال قائم کی ہے، جو اس طرح کی سیاسی ریلیوں کی وجہ سے ہونے والی افراتفری کا سامنا کرتے ہیں۔ ان ریلیوں کا عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف ان کی سستی سیاست کا حصہ ہوتی ہیں۔‘‘یہ سارے عام صارفین کے تاثرات ہیں، اب ایک ’بی جے پی‘ سے وابستہ ایک نوجوان کاردعمل بھی پڑھتے جائیں۔ نام ہے ، این کے مِتّل جن کے تعارف میں رکن،بی جے پی یوتھ وِنگ درج ہے، اِن مہاشئے نے ایکس پر لکھا کہ ’’یہ ملک کی ایک عام پریشان عورت کی اصل آواز ہے!ورلی میں مصروف سڑک کو کیوں بند کیا گیا جب کہ میدان موجود ہیں؟سیاست کے نام پر وی آئی پی کلچر اور عوام کو تکلیف دینا ، اب ناقابل برداشت ہے! اس بے خوف خاتون کو سلام، جو آج کی ہربے بس ماں کی آواز بنی!‘‘خیر ، اس معاملے کو بی جے پی کے ساتھ ساتھ سبھی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کو اپنے لئے نوشتہ دیوار سمجھنا چاہئے۔