اسکول انتظامیہ سے استفسار کیاگیاتو انہوں نے جواز پیش کیا کہ انہیں مذکورہ اسکیم کے تعلق سے یونیورسٹی سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 12:23 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbra
اسکول انتظامیہ سے استفسار کیاگیاتو انہوں نے جواز پیش کیا کہ انہیں مذکورہ اسکیم کے تعلق سے یونیورسٹی سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔
مہاراشٹر حکومت نے گزشتہ تعلیمی سال سے اعلان کیا ہے کہ جن طالبات کی خاندان کی سالانہ آمدنی ۸؍لاکھ روپے یا اس سے کم ہے، ان طالبات کو کالج میں ٹیوشن فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ریاستی حکومت کالج کو یہ فیس ادا کرے گی۔ حکومت کے گزشتہ بجٹ اسمبلی اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کے وزیر چندرکانت پاٹل نے یہ انتباہ بھی دیا ہےکہ جو کالج مستحق طالبات کو یہ سہولت نہیں دے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس وارننگ کے باوجود ممبرا میں واقع اے ای کالسیکر ڈگری کالج میں مستحق طالبات کو اس اسکیم سے محروم رکھا جارہاہے۔ اس سلسلے میں اسکول انتظامیہ سے استفسار کیاگیاتو انہوں نے جواز پیش کیا کہ انہیں مذکورہ اسکیم کے تعلق سے یونیورسٹی سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔
اس سلسلے میں سنیچر کو ڈگری کالج میں زیر تعلیم ایک بچی جس کے والد معذور ہیں اور آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں اور ان کی خاندان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ بھی نہیں ہے،اس نے اور ان کی ۲؍ کلاس میٹ طالبات جن میں ایک بیوہ کی بیٹی تھی اور دوسری اپنی نانی کے ساتھ رہتی ہیں، نے جب مذکورہ اسکیم سے استفادہ کرنے کی درخواست کی توکالج انتظامیہ نے اس اسکیم سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: گارگئی ڈیم: تعمیر شروع ہونے سے قبل ہی ۲؍ ہزار کروڑ کا اضافہ منظور
اس سلسلے میں نمائندۂ انقلاب نے جب کالج کی وائس پرنسپل فرزانہ چاؤرے سے رابطہ قائم کیا اور انہیں بتایاکہ’’ گزشتہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ۱۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو صبح ۱۱؍ بجے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ معاملہ اسمبلی میں وقفہ ٔ سوالا ت میں اٹھایا تھا اور بتایا تھا کہ حکومت نے غریب طالبات کی سہولت کیلئے جونیئر کالج اور پیشہ ورانہ کورس میں ٹیوشن فیس مکمل طور پر معاف کرنے کی اسکیم نافذ کی ہے لیکن متعدد اقلیتی تعلیمی اداروں /کالجوں میں اس پر عمل نہیں کیاجارہا ہے۔ وہ مستحق طالبات سے فیس ادا کرواتے ہیں اور اس کے بعد ان سے حکومت سے رجوع ہونے کیلئے کہتےہیں، اس طرح سے طالبات کو مفت ایجوکیشن کا مقصد فوت ہو رہا ہے۔ اس لئےایسے اداروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ رئیس شیخ کےاس مطالبے پر اعلیٰ تعلیم کے وزیر چندر کانت پاٹل نے ایوان اسمبلی کو بتایا تھاکہ سبھی کالجوں کوایک نوڈل آفیسر مقرر کرنے کی ہدایت دی ہے جو اہل طالبات کو اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے مدد کرے گا۔ چندر کانت پاٹل نے یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ جو کالج اس پر عمل نہیں کریں گے ان کےخلاف کارروائی کی جائے گی۔ نمائندۂ انقلاب نے وقفہ ٔ سوالات کی کاپی وائس پرنسپل کو بھی دی۔ انہوں نے اسے پورا پڑھا اور اس کے بعد کہاکہ اس بارے میں یونیورسٹی سے ہمیں کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے،ہم ان کی ہدایت کے مطابق کام کرتے ہیں۔ البتہ آپ طالبہ کو درخواست دینے کیلئے کہیئے ہم چیک کر کے بتائیں گے۔ ایک طالبہ کی والدہ سے انہوں نے کہاکہ’’ اگر آپ کی فیس ادا کرنے کی حیثیت نہیں تھی تو اس بی کا م (بیف) کورس میں داخل نہیں کراناچاہئے تھا۔ ‘‘اس سلسلے میں نمائندۂ انقلاب نے اعلیٰ تعلیم کے وزیر کے دفتر سے رابطہ قائم کیااور کالسیکر کالج کی شکایت تو انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے ڈائریکٹر شیلندردیولنکر سے رابطہ کرنے کیلئےکہا۔ ان سے رابطہ کرنے پر انہوں نے جوائنٹ ڈائریکٹر ( جی ڈی) (پنویل )کرن کمار بوندر سے بات کرنے کیلئے کہاکیونکہ مذکورہ کالج ان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: باندرہ میں امسال سیلابی کیفیت سے نجات ملنے کی اُمید
جوائٹ ڈائریکٹر کرن کمار بوندر سے شکایت کرنے پر انہوں نے کہا کہ ’’ مَیں نے کالج سے بات کی ہے۔ ان کا ایسا کہنا ہےکہ طالبات مکمل فیس معافی کا مطالبہ کر رہی ہیں لہٰذا طالبات کو ایسی درخواست دینے کیلئے کہئے کہ وہ حکومت کی مذکورہ اسکیم کے تحت ٹیوشن فیس معاف کروانا چاہتی ہیں اور ان کی ٹیوشن فیس کی رقم حکومت کی جانب سے کالج کو دی جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ ‘‘
افسر نے یقین دلایا ہے کہ کالسیکر کالج کومتنبہ کیاگیا ہے اور اب وہ اس اسکیم کو نافذ کریں گے اور مستحق طالبات کو اس کا فائدہ دیں گے۔ افسر سے یہ پوچھنے پر کہ دیگر کالجوں میں بھی مستحق طالبات کو اگر اسکیم کا فائدہ نہیں دیا جارہا ہے تو وہاں کی طالبات کیا کریں ؟ جوائنٹ ڈائریکٹر نے کہاکہ’’ عموماً کالج اور طالبات کو مذکورہ اسکیم کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، اگر کوئی کالج مذکورہ اسکیم سےطالبات کو محروم رکھ رہا ہے تو طالبات کالج کو درخواست دے سکتی ہیں۔ اس کے باوجود کالج ٹیوشن فیس معاف نہیں کرتا تو اعلیٰ تعلیم کے جوائنٹ /زونل ڈائریکٹر سے تحریری شکایت کر سکتی ہیں۔ ‘‘