Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیو سینا کے سیاسی پروگرام میں میونسپل کمشنر کی شرکت

Updated: August 06, 2026, 1:57 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

کانگریس نے خوشامد کرنے کا الزام لگایا۔

Abhinav Goyal - Photo: INN
ابھینوگوئل ۔ تصویر: آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں حکمراں شندے سینا کے نو منتخب کارپوریٹروں کیلئے منعقدہ ۲؍ روزہ تربیتی کیمپ سیاسی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔کانگریس نے اس کیمپ میں میونسپل کمشنر ابھینو گوئل کی شرکت پر شدید اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایک غیر جانبدار انتظامی افسر کسی ایک سیاسی پارٹی کے تربیتی پروگرام میں کس حیثیت سے شریک ہو سکتا ہے جبکہ شہر متعدد سنگین شہری مسائل سے دوچار ہے۔کانگریس کی گروپ لیڈر کانچن کلکرنی نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی کی پہلی میٹنگ میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ تمام پارٹیوں کے نو منتخب کارپوریٹروں کیلئے مشترکہ تربیتی کیمپ منعقد کیا جائے تاکہ تمام عوامی نمائندوں کو یکساں رہنمائی حاصل ہو سکے لیکن اس تجویز کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس کے برعکس صرف شندے سینا کے کارپوریٹروںکیلئے اُتّن (میرا بھائندر) میں واقع رام بھاؤ مہالگی پربودھنی میں خصوصی تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیاجس میں میونسپل کمشنر ابھینو گوئل نے نہ صرف شرکت کی بلکہ کارپوریٹروں کی رہنمائی بھی کی۔کانچن کلکرنی نے کہا کہ مسلسل بارش کے باعث کے ڈی ایم سی کی حدود میں بیشتر سڑکیں گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہیں جبکہ گزشتہ روز میونسپل کارپوریشن کے رکمنی بائی اسپتال میں ایک ڈھائی سالہ بچے کی کمر میں انجکشن کی سوئی رہ جانے کا انتہائی سنگین واقعہ بھی پیش آیا جس نے اسپتال کی انتظامی غفلت کو بے نقاب کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس اور عوامی مفاد کے معاملات پر توجہ دینے کیلئے میونسپل کمشنر کے پاس وقت نہیں ہے لیکن ایک سیاسی پارٹی کے تربیتی پروگرام میں شرکت کیلئے ان کے پاس وافر وقت موجود ہے جو افسوسناک ہے۔دوسری جانب تربیتی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ عوامی نمائندہ اقتدار کا مالک نہیں بلکہ عوام کا خادم ہوتا ہے۔ انہوں نے کارپوریٹروں کو ہدایت دی کہ وہ عہدے کا غرور ترک کرکے ایک کارکن کی حیثیت سے عوام کے درمیان رہیں۔ ترقیاتی فیصلوں میں ماحولیات کو ترجیح دیں اور ہمیشہ یہ احساس برقرار رکھیں کہ عوام نے انہیں خدمت کے لیے منتخب کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK