• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مروڈ: تاریخی جنجیرہ قلعہ پر مستقل طورپربھگوا جھنڈا لگانے کا مطالبہ

Updated: November 02, 2026, 12:35 PM IST | Siraj Sheikh | Murud-Janjira

’سہیادری پرتشٹھان ہندوستان‘ نامی تنظیم نے احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرے کے پیش نظرسیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے، جنجیرہ قلعہ بند کر دیا گیا اور کشتی خدمات معطل کر دی گئی تھیں۔

Volunteers from ‘Sahyadri Pratishthan Hindustan’ staging a protest at the Murud-Janjira Fort. The second image shows a memorandum being submitted on behalf of the organization. Photo: INN
’سہیادری پرتشٹھان ہندوستان‘ کے رضاکار مروڈجنجیرہ قلعہ پر احتجاج کرتے ہوئے۔ دوسری تصویر میں تنظیم کی جانب سے میمورنڈم دیا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کی سماجی و ثقافتی تنظیم ’سہیادری پرتشٹھان ہندوستان‘  ریاست کے تاریخی قلعوں پر مستقل طور پر بھگوا جھنڈالگانے کیلئے سرگرم   ہے۔ تنظیم کی جانب سے مختلف مواقع پر حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ  سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ مراٹھا سلطنت اور چھترپتی شیواجی مہاراج کی وراثت کے احترام میں ان قلعوں پر بھگوا جھنڈا لہرایا جائے۔اس ضمن میں  اتوار کو مروڈ کے تاریخی قلعہ جنجیرہ پر مستقل طور پر بھگوا جھنڈا لہرانے کے مطالبے  پر ’سہیا دری پرتشٹھان ہندوستان‘کی جانب سے زبردست احتجاجکیا گیا۔ اس موقع پر تنظیم کے عہدیدار اور رضاکار کثیر تعداد میں موجود تھے ۔کارکنان نے ہاتھ میں بھگوا جھنڈے لہراتے ہوئے نعرے بازی کی اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔

مروڈ جنجیرہ میں واقع کال بھیرو مندر کے پاس سے شروع ہونے والے اس احتجاجی مظاہرہ کا اختتام کھورا بندرگاہ پر ہوا جہاں پر تنظیم کے ایک وفد کی جانب سےایک’بال شیوا جی مہاراج‘ نےتحصیلدار آدیش ڈ فل کو اپنے مطالبات پر مبنی میمورنڈم پیش کیا۔

’’شیواجی مہاراج اور سمبھاجی مہاراج نے قلعہ فتح کرنے کی جدوجہد کی تھی‘‘

تحصیلدار کو سونپی گئی یادداشت میں سہیا دری پرتشٹھان نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جنجیرہ قلعہ کو فتح کرنے کیلئے شیواجی مہاراج اور سمبھاجی مہاراج نے جدوجہد کی تھی اس لئے یہ اس خطے کی تاریخی اور ثقافتی وراثت کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھنے کیلئے یہاں مستقل طور پر بھگوا جھنڈا لہرایا جانا چاہئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ان کی عقیدت اور تاریخی شناخت کا معاملہ ہے جس پر مرکزی اور ریاستی حکومت اور انتظامیہ کو فوری توجہ دینی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: ایف ڈی اے کی کارروائی، ایکسپائر غذائی اشیاء ضبط

دوسری جانب یادداشت موصول کرنے کے بعد تحصیلدار نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات اور یادداشت کو اعلیٰ حکام اور متعلقہ محکمہ آثار قدیمہ تک پہنچا دیا جائے گا کیونکہ قلعے کے قوانین اور ضوابط مرکزی اور ریاستی محکموں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ احتجاج کے پیش نظرمروڈ میں سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

اس موقع پر ڈومبیولی کے کارپوریٹر مہیش پاٹل نے سہیادری پرتشٹھان کے اقدام کی ستائش کی۔انہوں نے کہا کہ ’’چھترپتی شیواجی مہاراج اور چھترپتی سمبھاجی مہاراج نے جنجیرہ قلعہ کو فتح کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس لئے  حکومت کو اس تاریخی قلعہ پر زعفرانی پرچم لہرانے کے مطالبے پر مثبت غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے محکمہ آثار قدیمہ کی کار کردگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جنجیرہ قلعہ پر حکومت کی باضابطہ اجازت سے زعفرانی پرچم لہرایا جائے اور اس کی حفاظت کیلئے  وہاں چوبیس گھنٹے پولیس تعینات کی جائے۔

اس احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر مروڈ پولیس تھانے کے انسپکٹر پر شورام کامبلے کی رہنمائی میں پولیس کی جانب سے  سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے تاکہ امن و امان قائم رہے۔انسپکٹر کامبلے نے کہا کہ اس احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر۸؍ پولیس افسران، ۷۰؍پولیس کانسٹبل،کوسٹل اور ٹریفک پولیس کی ۲؍ ٹیمیں اور۲۵؍ ہوم گارڈ تعینات کئےگئے تھے۔

جنجیرہ قلعہ بند اور کشتی خدمات معطل

نمائندۂ انقلاب کو ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں کہ اتوار کو پرتشٹھان کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا جانے والا ہے اس لئے جنجیرہ قلعہ بند کر دیا گیا ہے اور راجپوری جیٹی اور کھورا بندر  سے بوٹ سروس بند کر دی گئی تھی جس کی وجہ سے سیکڑوں سیاح واپس جانے پر مجبور ہو گئے۔

  سہیادری پرتشٹھان کا مطالبہ

’سہیادری پرتشٹھان ہندوستان ‘ کے صدر ڈاکٹر شرمک چندر شیکھر گوجام گنڈے نے کہا کہ ’’ تنظیم کے ہزاروں رضا کار اس سے قبل بھی مہاراشٹر کے مختلف قلعوں پر بھگوا پرچم لہرانے کی مہم چلا چکے ہیں۔‘‘انہوں نے تاریخی پدم درگ قلعہ پر ملک کا سب سے بڑا بھگوا جھنڈا لہرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ سہیادری پرتشٹھان کا موقف ہے کہ مہاراشٹر کے قلعے مراٹھا تاریخ اور شجاعت کی علامت ہیں لہٰذا ان پر بھگوا جھنڈا لہرانا ان کی تاریخی شناخت کو بحال رکھنے کیلئے ضروری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کے سخت قوانین کے باعث تنظیم کو اکثر ان مطالبات کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں اور انتظامیہ کو انتباہ دیا کہ اگر ان کے اس دیرینہ مطالبے پر جلد ہی کوئی مثبت فیصلہ نہ کیا گیا تو وہ مستقبل میں اپنی اس مہم کو مزید تیز کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK