Updated: March 30, 2026, 8:19 PM IST
| Naypyidaw
میانمار کے فوجی حکمران من آنگ ہلائنگ کو نائب صدر کے طور پر نامزد کر کے فوجی کمانڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جس سے وہ شہری عہدے کے ذریعے اپنی حکمرانی جاری رکھ سکیں گے۔ نئے فوجی کمانڈر کے طور پر سابق جاسوس سربراہ یے ون اوو کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ فوجی اختیارات کی منتقلی ممکن ہو سکے۔
من آنگ ہلائنگ۔ تصویر:آئی این این
میانمار کے فوجی حکمران سربراہ من آنگ ہلائنگ کو پیر کو نائب صدر کے امیدوار کے طور پر نامزد کر دیا گیا اور فوجی کمانڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس سے یہ راستہ ہموار ہو گیا کہ یہ کُو لیڈر صدر بن کر اپنے حکمرانی کو شہری لباس میں جاری رکھ سکے۔ من آنگ ہلائنگ نے ۲۰۲۱ء میں میانمار پر حکومت سنبھالی جب انہوں نے آنگ سان سوچی کی سول حکومت کا تختہ الٹنے کا حکم دیا۔ پانچ سالہ سخت گیر حکمرانی کے بعد، انہوں نے انتہائی محدود انتخابات کرائے جن میں ووٹ کے خلاف احتجاج یا تنقید کو جرم قرار دیا گیا اور جنوری کے آخر میں پرو-فوجی جماعتوں کیلئے آسان جیت سامنے آئی۔ جمہوریت کے نگراں اداروں نے طویل عرصے سے خبردار کیا تھا کہ حکومت فوج کی نمائندہ ہوگی، جو میانمار کی آزادی کے بعد کی تاریخ کا بیشتر حصہ حکومت کر چکی ہے۔
ایم پی کیاؤ کیاؤ ہٹائی نے کہا’’میں سینئر جنرل من آنگ ہلائنگ کو نائب صدر کے طور پر نامزد کرتا ہوں۔ سرکاری میڈیا پر لوئر ہاؤس کے اجلاس کی براڈکاسٹ میں بھی دکھایا گیا۔ تین نائب صدر منتخب کئے جائیں گے، جن میں سے ایک پارلیمنٹ میں ہونے والے ووٹ میں صدر منتخب ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: ۱۲؍ ٹن کٹ کیٹ چاکلیٹ چوری، ۴؍ لاکھ سے زائد چاکلیٹ کا کوئی سراغ نہیں
سابق جاسوس سربراہ، نیا فوجی کمانڈر
میانمار کے جرنیلس نے نئے فوجی کمانڈر ان چیف کا بھی تقرر کیا، سابق جاسوس سربراہ یے ون اوو نے من آنگ ہلائنگ کی جگہ لی۔ یے ون اوو کو دارالحکومت نئی پیڈاوا میں ایک تقریب کے دوران فوجی عہدے پر ترقی دی گئی، اور یہ خبر کئی میانمار میڈیا ذرائع نے دی۔ میانمار کی فوج نے ہمیشہ خود کو ملک کو بگڑنے اور انتشار سے بچانے والی واحد طاقت کے طور پر پیش کیا ہے۔ جنرلوں نے ۲۰۱۱ء میں ایک دہائی طویل جمہوری وقفے کیلئے گرفت نرم کی جس سے سوچی سول لیڈر بنیں اور اصلاحات کی ایک مدت کو آگے بڑھایا۔ ۲۰۲۰ء کے انتخابات میں سوچی کی فتح کے بعد، من آنگ ہلائنگ نے طاقت واپس چھین لی کیونکہ وہ فوج کے کمزور ہوتے اثر و رسوخ سے فکر مند ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں جنگ بندی کیلئے اسلام آباد میں اجلاس، سعودی، مصرا ورترکی کی شرکت
اب یو ایس ڈی پی جس کی قیادت اور عملہ بہت سے ریٹائرڈ افسران پر مشتمل ہے، پارلیمنٹ میں مضبوط ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت فوج کے ساتھ ہم آہنگی سے آگے بڑھے گی۔ تاہم، من آنگ ہلائنگ کو محتاط منتقلی کا انتظام کرنا ہوگا کیونکہ وہ فوج کے تمام طاقتور اختیارات یے ون اوو کو سونپ کر شہری عہدے میں منتقل ہو رہے ہیں۔