میانمار میں فوجی حکومت کے زیرِ انتظام ہونے والے متنازع انتخابات میں فوج نواز جماعت نے کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، جسے جمہوریت کے حامی حلقوں نے مسترد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابی عمل فوجی اقتدار کو سویلین رنگ دینے کی ایک کوشش ہے۔
EPAPER
Updated: January 26, 2026, 4:09 PM IST | Naypyidaw
میانمار میں فوجی حکومت کے زیرِ انتظام ہونے والے متنازع انتخابات میں فوج نواز جماعت نے کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، جسے جمہوریت کے حامی حلقوں نے مسترد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابی عمل فوجی اقتدار کو سویلین رنگ دینے کی ایک کوشش ہے۔
میانمار کی فوج نواز غالب جماعت نے فوجی حکومت کے زیرِ انتظام انتخابات جیت لئے ہیں، پارٹی کے ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا۔ یہ ایک ماہ طویل ووٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے، جسے جمہوریت کے نگران اداروں نے فوجی اقتدار کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ یونین سالیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کے ایک سینئر عہدیدار نے پیر کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، کیونکہ وہ ابتدائی نتائج شیئر کرنے کے مجاز نہیں تھے:’’ہم پہلے ہی اکثریت حاصل کر چکے ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا، ہم نئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں، ‘‘ یہ بات انہوں نے اتوار کو ووٹنگ کے تیسرے اور آخری مرحلے کے بعد کہی۔ ’’چونکہ ہم نے انتخابات جیت لئے ہیں، اس لئےہم آگے بڑھیں گے۔ ‘‘بہت سے تجزیہ کار یو ایس ڈی پی کو فوج کا ایک سویلین نمائندہ قرار دیتے ہیں، جس نے ۲۰۲۱ءکی بغاوت میں اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے آنگ سان سو چی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
ملک کے بڑے حصوں میں ووٹنگ نہیں ہو سکی جو باغی گروہوں کے کنٹرول میں ہیں اور جو بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں یہ بھی انتخابات کے مینڈیٹ پر سوال اٹھانے والوں کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سرکاری نتائج اس ہفتے کے آخر میں متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا رفح بارڈر محدود طور پر کھولنے کا اعلان، یرغمالوں کی بازیابی شرط
نئے قوانین
بغاوت کو پانچ سال گزرنے کے بعد، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج نے اپنی حکمرانی کو سویلین جواز دینے کیلئے اس انتخابی عمل کو منظم اور کنٹرول کیا۔ اتوار کو منڈالے شہر میں پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کرتے ہوئے، اور سویلین لباس میں نظر آتے ہوئے، جنتا کے سربراہ من آنگ ہلائنگ نے نئی حکومت کے صدر کے طور پر خدمات انجام دینے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ صدر کا انتخاب پارلیمنٹ کے مارچ میں اجلاس کے بعد ارکانِ پارلیمنٹ کی اکثریت سے کیا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے ماہر ٹام اینڈریوز نے گزشتہ ہفتے کہا، ’’اگرچہ میانمار کے اندر انتخابی نتائج کبھی شک میں نہیں رہے، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ بین الاقوامی برادری اس پر کیا ردِعمل دیتی ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’اس جعلی عمل کو بین الاقوامی سطح پر قبول کیا جانا اس بحران کے حقیقی حل کی گھڑی کو پیچھے دھکیل دے گا۔ ‘‘
ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشنز کے مطابق، وہ جماعتیں جنہوں نے۲۰۲۰ء میں ۹۰؍ فیصد نشستیں جیتی تھیں، اس بار بیلٹ پیپر پر موجود ہی نہیں تھیں۔ جنتا کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اختلافِ رائے کو کچل دیا گیا ہے، اور نئے قوانین کے تحت انتخابات کے خلاف احتجاج یا تنقید پر دس سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسسٹنس اسوسی ایشن فار پولیٹیکل پرزنرز نامی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق، اس وقت ۲۲؍ہزار سے زائد افراد جنتا کی جیلوں میں قید ہیں۔