• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منوری ساحل پر پھنسے جہاز میں ۴ ؍ افراد کی پُراسرار موت

Updated: October 03, 2026, 3:50 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Gorai

بھائندر کے قریب واقع معروف گورائی- منوری ساحل  پر گزشتہ ۴؍ ماہ سے پھنسے تیل بردار جہاز ’ایم ٹی الجبزیہ‘  میں مبینہ طورپر زہریلی گیس کے اخراج سے۴؍ افراد کی دم گھٹنے سے موت ہو گئی۔

Ship stranded off the Manora coast; four people have died. Photo: INN
منوری ساحل پر پھنسا جہاز جس میں ۴؍ افراد کی موت ہوئی ہے۔ تصویر: آئی این این
بھائندر کے قریب واقع معروف گورائی- منوری ساحل  پر گزشتہ ۴؍ ماہ سے پھنسے تیل بردار جہاز ’ایم ٹی الجبزیہ‘  میں مبینہ طورپر زہریلی گیس کے اخراج سے۴؍ افراد کی دم گھٹنے سے موت ہوگئی۔ پولیس کے مطابق یہ تمام افراد چوری کی نیت سے   جہاز میں داخل ہوئے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بحریہ اور گورائی پولیس نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن کے ذریعے لاشوں کو باہر نکالا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ۸؍ افراد کا ایک گروہ اسپیڈ بوٹ کے ذریعے منوری ساحل پر پھنسے ہوئے اس جہاز تک پہنچاتھا۔ ان میں سے ۷؍ افراد جہاز کے اندر داخل ہوئے جبکہ ایک شخص بوٹ میں ہی موجود رہا۔
بتایا جاتا ہے کہ ۴؍ افراد جہاز کے انجن روم میں پائپ اور دیگر اشیاء کاٹنے گئے تھے کہ اسی دوران وہاں جمع شدہ زہریلی گیس کا زبردست اخراج شروع ہو گیا جس کی وجہ سے دم گھٹنے سے چاروں موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
 
 
حادثے کی اطلاع ملتے ہی گورائی پولیس فوراً متحرک ہوئی اور انڈین نیوی (بحریہ) کی مدد حاصل کی گئی۔ نیوی کے غواصوں اور ریسکیو ٹیم نے جہاز کے اندر داخل ہو کر چاروں لاشوں کو باہر نکالا۔ پولیس نے موقع سے ۳؍ افراد کو حراست میں لے کر معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ 
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جہاز کے مالک کے خلاف پہلے سے ہی مقدمہ درج ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ ملک سے باہر فرار ہو چکا ہے۔ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ یہ جہاز مبینہ طور پر غیر قانونی تیل کی اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کی باضابطہ تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی کی جائے گی۔
گورائی پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم اور میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ہی ہلاکتوں کی اصل اور حتمی وجہ سامنے آسکے گی۔ پولیس اس پورے گروہ اور ان کے پس منظر کی باریکی سے جانچ کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK