• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مظفرنگر فسادات کے ۱۳؍ سال بعد پراسرار پوسٹر، چسپاں کرنے والوں کی تلاش جاری

Updated: September 09, 2026, 6:01 PM IST | Lucknow

اترپردیش کے مظفرنگر میں ۲۰۱۳ء کے فرقہ وارانہ فسادات کی ۱۳؍ ویں برسی کے موقع پر پراسرار پوسٹروں نے سیاسی و انتظامی حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ ۷؍ ستمبر کی صبح روڈویز بس اسٹینڈ کے قریب لگائے گئے ان پوسٹروں پر ’’نہ بھولے تھے، نہ بھولے ہیں، نہ بھولیں گے‘‘ کا پیغام درج تھا، جبکہ بعض پوسٹروں کے ساتھ فسادات سے متعلق اخباری تراشے بھی چسپاں کیے گئے تھے۔ پولیس نے پوسٹر ہٹانے کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ۲؍ سے ۳؍ مشتبہ افراد کی شناخت کی کوشش شروع کردی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اترپردیش میں ۲۰۱۳ء کے مظفرنگر فسادات کی ۱۳؍ ویں برسی کے موقع پر ۷؍ ستمبر کی صبح مظفرنگر کے روڈویز بس اسٹینڈ کے قریب پراسرار پوسٹر اور ہورڈنگز سامنے آنے کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ پوسٹروں پر فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے ’’نہ بھولے تھے، نہ بھولے ہیں، نہ بھولیں گے‘‘ کا پیغام درج تھا۔ بعض پوسٹروں کے ساتھ ۲۰۱۳ء کے واقعات سے متعلق اخباری تراشے بھی لگائے گئے تھے۔ پولیس نے فوری طور پر انہیں ہٹادیا اور اب لگانے والوں اور ان کے مقصد کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش جاری ہے۔ مظفرنگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنجے کمار کے مطابق پولیس نے موقع کے آس پاس نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کرلی ہے۔ ابتدائی جانچ میں ۲؍ سے ۳؍ افراد کے بس سے اترنے اور پوسٹر چسپاں کرنے کے مناظر سامنے آئے ہیں۔ ایس پی سٹی کو معاملے کی مکمل جانچ کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس ان افراد کی شناخت کے ساتھ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ پوسٹر کس نے تیار کرائے اور انہیں کس مقصد سے لگایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: گوندیا بالاگھاٹ شاہراہ پر ٹرک اور پک اَپ میں تصادم، ۶؍ افراد ہلاک

معاملہ صرف مظفرنگر تک محدود نہیں رہا۔ سوشل میڈیا پر دوسرے اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے پوسٹروں کی تصاویر گردش کرتی رہیں۔ سہارنپور اور لکھنؤ میں سامنے آنے والے بعض پوسٹروں میں سماج وادی پارٹی کے صدر اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی تصویر بھی شامل تھی۔ سہارنپور میں پولیس نے پوسٹر ہٹادیے اور سی سی ٹی وی سمیت دستیاب دیگر شواہد کی جانچ شروع کردی۔ علی گڑھ میں بھی ایسے پوسٹر لگنے کی تصاویر سامنے آئیں، لیکن پولیس کی موقع پر جانچ میں وہاں پوسٹر موجود نہیں ملے۔ اکھلیش یادو کی تصویر شامل ہونے سے معاملہ مزید سیاسی ہوگیا ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پوسٹر کس سیاسی جماعت، تنظیم یا فرد نے لگائے۔ پولیس نے بھی کسی فریق کو ذمہ دار قرار نہیں دیا ہے۔ اس لیے پوسٹروں کے پس پردہ سیاسی مقصد کے بارے میں سامنے آنے والی قیاس آرائیوں کو فی الحال پولیس کی تفتیش سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چالان سے بچنے کا طریقہ! کارکی نمبر پلیٹ ایک میکانیزم کے ذریعے چھپا دی گئی

سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے پوسٹر لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں، لیکن شہر کے ماحول کو خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنا ضروری ہے اور کسی بھی ایسی کوشش کا راستہ روکا جانا چاہیے جس سے کشیدگی پیدا ہو۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے میں ایک پرانی مسجد کے انہدام کو لے کر بھی تنازع جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو ۲۰۲۷ء کے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے فرقہ وارانہ سیاست سے جوڑا ہے، تاہم یہ سیاسی الزامات ہیں اور پوسٹروں کے معاملے میں ان کا کوئی براہ راست تعلق ابھی پولیس کی جانب سے ثابت نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: جرنگے کی حمایت میں ہنگولی میں سیاسی پروگراموں کا بائیکاٹ

۲۰۱۳ء کے مظفرنگر اور ملحقہ اضلاع کے فسادات مغربی اترپردیش کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑنے والے واقعات میں شمار ہوتے ہیں۔ تشدد میں ۶۵؍ سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ۴۰؍ ہزار افراد بے گھر ہوئے تھے۔ فسادات کے بعد خطے میں سیاسی صف بندی بھی تبدیل ہوئی اور یہ واقعہ برسوں تک اترپردیش کی انتخابی سیاست اور فرقہ وارانہ مباحث کا اہم موضوع بنا رہا۔ تازہ واقعے میں پولیس نے پوسٹر ہٹانے کے ساتھ سی سی ٹی وی شواہد محفوظ کرلیے ہیں، لیکن تاحال کسی شخص کی شناخت یا گرفتاری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ تحقیقات کا اگلا اہم مرحلہ ان افراد کی شناخت اور یہ معلوم کرنا ہے کہ ۱۳؍ سال پرانے فسادات کی برسی پر یہ مہم کس نے اور کس مقصد سے شروع کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK