کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس اور آل انڈیا ٹریڈ بورڈبھی احتجاج میں شامل۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 9:52 AM IST | Agency | New Delhi
کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس اور آل انڈیا ٹریڈ بورڈبھی احتجاج میں شامل۔
’یو پی آئی‘ چارج کے خلاف پورے ملک میں تاجروں کے احتجاجی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ اب ’فیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈ بورڈ‘ (ایف اے آئی وی ایم) اور ’کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس‘ (سی اے آئی ٹی) جیسی اہم تجارتی تنظیموں نے گاندھی جینتی یعنی ۲؍ اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کے اعلان کی حمایت کردی ہے ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ۲؍اکتوبر کو تاجر یو پی آئی سے پیمنٹ نہیں لیں گے اور عوام کو کیش یا کارڈ سے ہی سامان خریدنا ہوگا۔
تاجر یو پی آئی لین دین پر لگنے والے ’مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ‘ (ایم ڈی آر) چارج کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ پٹرول، ڈیزل، جنرل اسٹور، الیکٹرانکس اور اناج پر پہلے ہی بہت کم مارجن ہے۔ اب اس پر نئے ٹیکس لگائے جانے سے اضافی مالی بوجھ بڑھے گا۔ اندور ریٹیل گارمنٹس اسوسی ایشن نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اگر۱۵؍ اکتوبر سے پہلے فیصلہ واپس نہیںہوا تو یو پی آئی کیو آر کوڈ مشینوں کو پانی میں بہا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امیت شاہ کی میٹنگوں سے مسلم افسران کی بے دخلی کی رپورٹنگ: مکتوب میڈیا پر مقدمہ
حکومت کے اس فیصلے پر تاجروں میں بہت زیادہ ناراضگی محسوس کی جا رہی ہے۔ ناراض تاجروں نے ۲۳؍ ستمبر کو مدھیہ پردیش کے بھوپال، اندور، جبل پور اور گوالیار جیسے شہروں کی تقریباً ۱۲۵؍ تجارتی تنظیموں نے ’نو یو پی آئی ڈے‘ منایا، جس کی وجہ سے ریاست میں تقریباً۲۵؍ فیصد کاروبار متاثر ہوا۔ ’مہاراشٹر چیمبر آف کامرس‘ اور پیٹرول پمپ ڈیلرس اسوسی ایشن بھی اس تحریک کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایم اے سی سی آئی اے نے کہا کہ ہم نے پورے ملک میں سبھی تجارتی تنظیموں سے بات کی ہے اور نہ صرف مہاراشٹر بلکہ دیگر ریاستوں نے بھی ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم نے یہ بھی بتایا کہ ایم اے سی سی آئی اے اور اس سے وابستہ ۵۰۰؍ تنظیمیں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ’فیڈریشن آف ریٹیل ٹریڈرس ویلفیئر ایسوسی ایشن‘، ’آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس ڈسٹری بیوٹرس فیڈریشن‘، ’آل انڈیا موبائل ریٹیلرز ایسوسی ایشن‘،’آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ اسمتھ فیڈریشن‘ اور ’آل انڈیا خوردنی تیل تاجر فیڈریشن‘ ملک کی کچھ اہم تنظیمیں ہیں جو ۲؍ اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے‘ کی حمایت کریں گی۔اس طرح کی کئی تنظیمیں حکومت کے خلاف میدان میں آگئی ہیں۔