۳؍ سال قبل اپنے۲۱؍ سالہ بیٹے کی موت کی دوبارہ جانچ اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے والدین نے پولیس کمشنرآفس کے باہر احتجاج کیا۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 12:04 PM IST | Wasim Ahmed Patel | Navi Mumbai
۳؍ سال قبل اپنے۲۱؍ سالہ بیٹے کی موت کی دوبارہ جانچ اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے والدین نے پولیس کمشنرآفس کے باہر احتجاج کیا۔
۳؍ سال قبل اپنے۲۱؍ سالہ بیٹے کی موت کی دوبارہ جانچ اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے والدین نے پولیس کمشنرآفس کے باہر احتجاج کیا۔ ایوب قریشی نے اس نمائندے کو بتایا کہ ۳۰؍اکتوبر۲۰۲۳ء کو تر بھے میں ان کے بیٹے پرویز کی لاش ہنومان نگر کے قریب ایک تالاب میں ملی۔ اطلاع ملتی ہی وہ وہاں پہنچے۔ پولیس نے لاش کو تالاب سے باہر نکال کر اسپتال سے اس کا پوسٹ مارٹم کروایا اور حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا ۔ ان کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے کا قتل کیا گیا ہے اور صحیح طریقے سے پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا اور اندرونی اعضاء کی رپورٹ انہیں نہیں دکھائی گئی جس میں ان کے مطابق مار پیٹ کے نشانات ہو سکتے ہیں۔
انہوں نےیہ الزام بھی لگایا ہے کہ پولیس مجرموں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کل ۱۵؍مشتبہ افراد کے نام پولیس کو دیئے تھے جس پر انہیں شک تھا لیکن پولیس نے ان لوگوں سے کوئی باز پرس نہیں کی۔ انہوں نے تالاب کے قریب ایک کمپنی سے وہاں کا سی سی ٹی وی کیمرے کا فوٹیج حاصل کیا جس میں ان کا بیٹا جو رکشا چلاتا تھا، تالاب کے قریب جاتا ہوا دکھائی دیا اور تھوڑی دیر سے وہاں پر ایک کار آتی ہے جو سی سی ٹی وی کیمرے کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس سی سی ٹی وی کیمرے کی بنیاد پر پولیس سے کئی دفعہ ایف آئی آر درج کر کے نئے سرے سے اس معاملے کی جانچ کی اپیل کی لیکن ان کی اپیل ٹھکرا دی گئی۔ ایوب قریشی نے کہا کہ جب تک ان کے بیٹے کے تالاب میں ڈوبنے کی نئے سرے سے جانچ نہیں کی جاتی اور وہ اپنی اہلیہ کےساتھ احتجاج کرتے رہیں گے۔