جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ٔ اسلامک اسٹڈیز میں ’’سفر ِ ایران: مشاہدات، تاثرات‘‘ کے موضوع پر خصوصی خطبہ۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 12:47 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ٔ اسلامک اسٹڈیز میں ’’سفر ِ ایران: مشاہدات، تاثرات‘‘ کے موضوع پر خصوصی خطبہ۔
’’اسلامی اتحاد کے لیے فکری، اعتقادی یا فقہی اختلافات کا خاتمہ ناگزیر نہیں؛ اصل ضرورت ایک ایسے وسیع تر فکری و اخلاقی دائرہ کار کی تشکیل ہے، جس میں اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں باہمی نفرت، نزاع اور تشدد کا سبب بننے سے روکا جائے۔ مسلمانوں کے بنیادی عقائد، مشترک اقدار، تاریخی تجربات اور اخلاقی اصول وہ مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جن پر باہمی احترام، عدل، مکالمے اور تعاون کی روایت استوار کی جا سکتی ہے۔‘‘ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد خالد خان، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے بزم تحقیق، شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی جانب سے منعقدخصوصی خطبہ ’’سفر ایران: تاثرات و مشاہدات‘‘ میں کیا۔
یہ بھی پڑھئے:مہوا موئترا کے خلاف تعزیری کارروائی پر روک میں توسیع
ڈاکٹر محمد خالد خان نے ایرانی معاشرے کے مشاہدات کی روشنی میں وہاں کی مذہبی، سماجی اور تہذیبی زندگی کے متعدد پہلو اجاگر کیے، جن سے ایران کے بارے میں پائی جانے والی بعض عمومی غلط فہمیوں کی اصلاح ہوتی ہے؛ خصوصاً اہلِ سنت کی مساجد، مدارس اور مذہبی اداروں کی موجودگی، نیز خواتین کی تعلیمی، سرکاری اور سماجی شعبوں میں نمایاں شرکت ایرانی معاشرے کے مذہبی تنوع، تہذیبی تسلسل اور معاصر سماجی زندگی کے مختلف مظاہر کی عکاس ہے۔ ایران کی علمی و تہذیبی روایت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تہران کی نیشنل لائبریری میں محفوظ متنوع علمی و ادبی ذخیرے، مختلف ادوار کی کتابوں، تاریخی آثار اور اسلامی عہد کے علما و اہلِ علم کی تصانیف و مسودات کو ایران کے وسیع علمی ورثے اور تہذیبی حافظے کی نمایاں علامت قرار دیا۔واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد خالد خان نے گزشتہ ماہ ایران میں ’’عالمی مجمع تقریب بین المذاہب الاسلامیہ‘‘ کی جانب سے نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر منعقد ہونے والی چالیسویں بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
ایران میں قیام کے دوران علمی و تہذیبی مراکز کے مشاہدے اور مختلف اہلِ علم سے ملاقات کے اس پورے تجربے میں جناب وحید روشنی، نیز ایران کلچر ہاؤس، نئی دہلی کے ذمہ داران ڈاکٹرمہدی باقر خان اور صادق حسینی کی علمی و انتظامی معاونت اور رہنمائی بھی شامل رہی۔ صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز ڈاکٹر جنید حارث نے کہا کہ انسان اپنی محدود جغرافیائی اور معاشرتی حدود میں پرورش پاتا ہے، اس لیے سفرنامے اس کے فکری دائرے کو وسعت دینے، صلاحیتوں کو نکھارنے اور مختلف معاشروں کے حالات و تجربات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور باہمی تفہیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔صدر جلسہ پروفیسر اقتدار محمد خان، ڈین، فیکلٹی برائے انسانی علوم و لسانیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے فرمایا کہ ایران کے سفر اور قیام کے مشاہدات، تجربات اور تاثرات علمی و تہذیبی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتے ہیں؛ کسی ملک کی حقیقی تفہیم محض کتابوں اور تحریروں کے مطالعے تک محدود نہیں، اس کے معاشرے، تہذیب، علمی مراکز اور تاریخی آثار کا براہِ راست مشاہدہ اس کے مختلف پہلوؤں کو زیادہ جامع انداز میں سمجھنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس جلسے کا آغاز ریسرچ اسکالر محمد حمزہ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض عبدالرازق نے انجام دیے۔ اس موقع پر شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد موجود رہی۔ پروگرام کے انعقاد اور انتظام میں بزمِ تحقیق کے نائب صدر عبدالرازق، جنرل سیکریٹری محمد ثاقب، جوائنٹ سیکریٹری نخشب نثار، معیز الحق اور خازن کلثوم رضوی پیش پیش رہے۔