Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوی ممبئی: ۳؍ فلائی اوور کی تعمیر کی تجویز منظور

Updated: May 08, 2026, 11:02 AM IST | Wasim Ahmad Patel | Mumbai

نوی ممبئی میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہےجس کی وجہ سے گاڑیوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جس سے لوگوں کو اپنی منزل پر پہنچنے میں کافی پریشانی ہورہی ہے۔

More flyovers are planned to solve the traffic problem in Navi Mumbai. Photo: INN
نوی ممبئی میں ٹریفک کے مسئلے کے حل کیلئے مزید فلائی اوور کا منصوبہ ہے۔ تصویر: آئی این این

نوی ممبئی میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہےجس کی وجہ سے  گاڑیوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جس سے لوگوں کو اپنی منزل پر پہنچنے میں کافی پریشانی ہورہی ہے۔ اسی کے پیش نظر کارپوریٹر ساگر نائک نے جنرل باڈی میٹنگ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ تھانے سے بیلا پور  جانے والے شہریوں کی سہولت کیلئے ۶؍ فلائی اوور موجود ہیں لیکن تھانے سے بیلا پور  کے درمیان ربالے، پاؤ نے،  تر بھے، پام بیچ  اور نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے قریب سب وے تعمیر کیا جائے جس سے لوگوں کو آسانی ہو۔ اس تجویز کو منظوری دی گئی اور جلد ہی اس سلسلے میں ٹینڈر  طلب کئے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز رکھی تھی کہ بڑھتی  آبادی اور ٹریفک پر قابو پانے کیلئے ۳؍ نئے  فلائی اوور بھی تعمیر کئے جائیں۔ انہوں نےمزیدکہا کہ نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ  ،اٹل سیتو  کے علاوہ واشی- ایرولی فلائی اوور ہونے کے باوجود بڑھتی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے۔ اسی کے پیش نظر ۳؍ نئے فلائی اووروں کی ضرورت ہے۔ ان کی اس تجویز کو بھی منظور کرتے ہوئے  متعلقہ محکمہ کو اس بارے میں سروے کرنے کی  ہدایت دی گئی اور اس سلسلے میں ایک  تکنیکی ٹیم بھی تشکیل کی جائے گی۔ یہ بھی تجویز منظور کی گئی کہ فلائی اوور تعمیر کئے جانے کی صورت میں ٹھیکیدار کو شروع میں۳۰؍ فیصد رقم دی جائے گی اور باقی کی۷۰؍ فیصد رقم ۱۰؍برس میں قسطوں میں دی جائے گی جس کی وجہ سے میونسپل کارپوریشن پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا ۔ ذرائع کے مطابق تھانے سے بیلا پور اس راستے پر فلائی اوور بننا طے ہے اور اس راستے پر سب وے بھی بنایا جائے گا، باقی کے ۲؍ فلائی اووروں کے بارے میں فیصلہ جلد کئے جانے کی توقع  ہے۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو آئندہ چندبرسوں میں یہاں کے شہریوں کو ٹریفک کے مسئلے سے ہمیشہ کیلئے نجات مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK