Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہاس نگر: مریض کی موت پر سینٹرل اسپتال میں رشتہ داروں کی زبردست ہنگامہ آرائی

Updated: May 08, 2026, 12:26 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

اسپتال عملہ پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئےتوڑپھوڑ کی۔اس واقعہ کے خلاف ڈاکٹروں اورطبی عملہ نےاحتجاجاً ہڑتال کردی۔

Medical staff protesting after riots and vandalism at Central Hospital. (Photo: Inquilab)
سینٹرل اسپتال میں ہنگامہ آرائی اور توڑپھوڑ کے بعدطبی عملہ احتجاج کرتے ہوئے۔ (تصویر: انقلاب)

یہاں کے سینٹرل سرکاری اسپتال میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب ایک زیر علاج مریض کی موت  ہوگئی جس کے بعد  رشتہ داروں مشتعل ہوگئے او ر ا نہوںنے اسپتال کے عملہ پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے  زبردست ہنگامہ آرائی کی۔  انہوںنے نہ صرف ڈاکٹروں کے ساتھ بدسلوکی کی بلکہ اسپتال کے طبی آلات اور فرنیچر کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس پُرتشدد واقعے کے خلاف احتجاجا ڈاکٹروں  نے   خدمات معطل کر دیں۔ تاہم شہر کی میئر اور شہری انتظامیہ کی مداخلت اور سیکوریٹی کی یقین دہانی کے بعد معاملہ حل ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی ممبئی میں پانی سپلائی متاثر ہونے سے مکینوں کو دشواریاں

ذرائع کے مطابق بھگوان نبھورے نامی مریض کو دیر رات علاج  کیلئے سینٹرل اسپتال لایا گیا تھا جہاں دورانِ علاج وہ دم توڑ گئے۔ مریض کی موت کی خبر ملتے ہی رشتہ دار آپے سے باہر ہوگئے اور ڈاکٹروں پر غفلت کا الزام لگاتے ہوئے توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق دو سے تین افراد نے ڈاکٹروں کے کیبن اور وارڈ میں موجود طبی مشینری کو تہس نہس کر دیا جس کی وجہ سے وہاں موجود دیگر مریضوں اور ان کے اہل خانہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اس واقعہ کے فوراً بعد ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے اپنی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر جمعرات کی صبح سے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسپتال میں سیکوریٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے آئے دن ڈاکٹروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے مقامی سیاستدانوں پر بھی سخت تنقید  کرتے ہوئے کہا کہ مقامی سیاسی دباؤ کی وجہ سے ہمیں اکثر ایسے مریضوں کو بھی داخل کرنا پڑتا ہے جن کی حالت انتہائی تشویشناک ہوتی ہے اور علاج کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے پر سارا الزام ڈاکٹروں پر ڈال کر تشدد کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ایس ٹی ڈپو بدحال، خستہ حال عمارت میں ہزاروں مسافروں کی زندگی داؤ پر

دریں اثناء اشونی نکم اور اسپتال انتظامیہ نے مشتعل عملہ کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی اور انہیں یقین دلایا کہ توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کی گرفتاری کیلئے پولیس میںکیس درج کر لیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے یہ اہم مطالبہ بھی تسلیم کر لیا کہ مستقبل میں ڈاکٹروں کے تحفظ کیلئے اسپتال کے احاطے میں مستقل طور پر مسلح پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔انتظامیہ کی ان ٹھوس یقین دہانیوں کے بعد ڈاکٹروں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK