انسانیت کو شرمسار کرنے والے ایک واقعے میں میرا روڈ کے مشہور ’ووکہارٹ اسپتال‘ نے بل کی عدم ادائیگی پر ۷؍ماہ میں پیدا ہونے والی بچی کو ڈسچارج کرنے سے انکار کر دیاتھا۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 12:23 PM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mumbai
انسانیت کو شرمسار کرنے والے ایک واقعے میں میرا روڈ کے مشہور ’ووکہارٹ اسپتال‘ نے بل کی عدم ادائیگی پر ۷؍ماہ میں پیدا ہونے والی بچی کو ڈسچارج کرنے سے انکار کر دیاتھا۔
انسانیت کو شرمسار کرنے والے ایک واقعے میں میرا روڈ کے مشہور ’ووکہارٹ اسپتال‘ نے بل کی عدم ادائیگی پر ۷؍ماہ میں پیدا ہونے والی بچی کو ڈسچارج کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ متاثرہ خاندان کی فریاد پر سی پی آئی ایم لیڈر نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف محاذ کھول دیا جس کے بعد انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور بچی کو ڈسچارج کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق محمد فرمان نامی شخص کی ۷؍ ماہ میں پیدا ہونے والی بچی این آئی سی یو میں داخل تھی۔مذکورہ اسپتال نے محض چند دنوں کا بل لاکھوں روپے کادیا تھا جسے ادا کرنا غریب خاندان کے بس سے باہر تھا۔ والد کا الزام ہے کہ وہ تین دن سے ڈسچارج مانگ رہے تھے تاکہ بچی کو سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکے لیکن نجی اسپتال نے ’بزنس‘ کو ترجیح دی۔ سی پی آئی ایم لیڈر صادق پاشا نے موقع پر پہنچ کر سخت احتجاج کیا ۔ بالآخر بل میںرعایت دے کر بچی کو ڈسچارج کرایا۔
یہ بھی پڑھئے: جنوبی ممبئی میں پانی سپلائی متاثر ہونے سے مکینوں کو دشواریاں
جب اس معاملے میں اسپتال کا موقف جاننے کیلئے اس نمائندے نے ووکہارٹ اسپتال کا دورہ کیا تو استقبالیہ کاؤنٹر پر موجود خاتون نے کہا کہ پہلے آپ سیکوریٹی کیبن میں جا کر پاس بنا لیجئے۔ سیکوریٹی والے نے اپنے سینئر کو فون کرکے بلایا۔ اس شخص نے آنے کا مقصد جاننے کے بعد کہا کہ ہم اوپر بات کرتے ہیں۔
کچھ دیر بعد اس نے انتظامیہ میں شامل سنیل سر سے بات کرنے کے بعد اس نمائندے کو بتایا کہ سنیل سر کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے اس لئے ہم اس معاملے میں کوئی بیان دینا نہیں چاہتے ہیں۔