• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوراتری کے بعد مہنگے گربا ملبوسات کی واپسی کا انبار، منترا ڈیلیوری ورکر کا ویڈیو وائرل

Updated: October 17, 2026, 10:06 PM IST | Mumbai

نوراتری اور ڈانڈیا کی تقریبات ختم ہونے کے بعد آن لائن خریدے گئے ملبوسات کے بڑے پیمانے پر واپس کیے جانے کے دعوے نے ہندوستان میں ای کامرس کے کاروبار اور صارفین کے رویّوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ڈیلیوری ورکر کو بڑی تعداد میں پارسل دکھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جنہیں تہوار کے بعد واپس کیے جانے والے ملبوسات قرار دیا جا رہا ہے۔ ویڈیو کے بعد خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر خریدار مہنگے کپڑے تقریبات میں ایک بار پہننے کے بعد واپس کرنے لگیں تو فروخت کنندگان کو ترسیل، واپسی اور دوبارہ فروخت کے اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

نوراتری کے اختتام کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے آن لائن فیشن خریداری اور سامان واپس کرنے کی پالیسیوں پر نئی بحث شروع کردی ہے۔ ویڈیو میں رہائشی عمارتوں کے باہر بڑی تعداد میں پارسل جمع دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو شیئر کرنے والے ایکس صارف نشانت چانٹ نے اس کے ساتھ لکھا، ’’ڈانڈیا ختم، ڈریس ریٹرن‘‘ اور مبینہ طور پر ایسے صارفین کے رویّے پر تنقید کی جو تقریبات کے لیے کپڑے خریدنے کے بعد انہیں واپس کردیتے ہیں۔ انڈیا ٹوڈے، منی کنٹرول اور دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی اس ویڈیو کی رپورٹنگ کی ہے۔ تاہم، یہ ثابت نہیں ہوا کہ ویڈیو میں دکھائے گئے تمام پارسل نوراتری کے ملبوسات کے ہیں یا انہیں استعمال کرنے کے بعد واپس کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں ایک بڑے گلابی بیگ کے اندر متعدد پارسل دکھائے گئے ہیں، جب کہ سفید بوریوں اور عمارتوں کے باہر بھی پیکٹوں کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس منظر کو ڈانڈیا اور گربا کی تقریبات کے لیے مہنگے لہنگے، چولی اور دیگر روایتی ملبوسات خریدنے کے بعد انہیں واپس کرنے کے مبینہ رجحان سے جوڑا جا رہا ہے۔ بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ کچھ خریدار تقریبات میں نئے کپڑے پہننے، تصاویر بنوانے اور اپنی ظاہری نمائش کے بعد سامان واپس کردیتے ہیں۔ تاہم، یہ دعوے سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کا حصہ ہیں، نہ کہ اس مخصوص ویڈیو سے ثابت ہونے والے حقائق۔

اس معاملے میں ڈیلیوری کارکنوں کے کام کا بوجھ بھی زیرِ بحث آیا ہے۔ نو بھارت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ویڈیو میں واپسی کے لیے جمع کیے گئے پارسلوں کی بڑی تعداد دکھائی گئی اور بعض ڈیلیوری کارکنوں نے اپنے پاس موجود پارسلوں کی تعداد بھی بتائی۔ اس طرح سامان کی واپسی صرف خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان معاملہ نہیں رہتی، بلکہ اسے جمع کرنے، چھانٹنے، گودام تک پہنچانے اور دوبارہ ترسیل کے عمل میں شامل کارکنوں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ البتہ، اس مخصوص واقعے میں اضافی کام کے گھنٹوں یا ڈیلیوری کمپنیوں کے اخراجات کے بارے میں کوئی مصدقہ اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔ ای کامرس کاروبار کے لیے اصل تشویش ان واپسیوں سے پیدا ہونے والی ممکنہ لاگت ہے۔ ملبوسات کی آن لائن فروخت میں سائز، رنگ اور فٹنگ سے متعلق مسائل کی وجہ سے سامان واپس ہونا معمول کی بات ہے۔ لیکن اگر کسی چیز کو استعمال کرنے کے بعد واپس کیا جائے تو فروخت کنندہ کو اس کی حالت جانچنے، صفائی یا دوبارہ پیکنگ اور ممکنہ طور پر رعایتی قیمت پر فروخت کرنے کے اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں سمتوں میں ترسیل اور گودام میں سامان سنبھالنے پر بھی لاگت آتی ہے۔ اگر واپس آنے والا لباس اپنی اصل حالت میں نہ ہو تو اسے نئے ملبوسات کے طور پر فروخت کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
فیشن ای کامرس میں ریٹرن سے ہونے والے مالی نقصان پر کاروباری حلقے پہلے ہی توجہ دے رہے ہیں۔ ستمبر ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والے ایک صنعتی تجزیے میں ملبوسات فروخت کرنے والے بعض برانڈز کے لیے جعلی یا غیر حقیقی واپسیوں کے باعث مجموعی تجارتی مالیت کے تقریباً ۲؍ سے ۳؍ فیصد تک نقصان کا تخمینہ پیش کیا گیا تھا۔ تاہم، یہ ایک صنعتی تخمینہ ہے، نہ کہ منترا یا کسی دوسری مخصوص کمپنی کے لیے نوراتری کے بعد ہونے والے نقصان کا مصدقہ حساب۔ ویڈیو پر ہونے والے ردِعمل میں ایک طبقے نے مبینہ طور پر کپڑے پہن کر واپس کرنے کے عمل کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا، جب کہ بعض صارفین نے کہا کہ اگر کمپنیاں ریٹرن اور ریفنڈ کی سہولت دیتی ہیں تو خریدار اسے استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس بحث میں بنیادی فرق جائز واپسی اور پالیسی کے ممکنہ غلط استعمال کے درمیان ہے۔ اگر کپڑا سائز میں درست نہ ہو، اس میں نقص ہو یا آرڈر کے مطابق نہ ہو تو واپسی صارفین کے تحفظ کا اہم ذریعہ ہے۔ لیکن اگر سامان استعمال کرنے کے بعد اسے غیر استعمال شدہ ظاہر کرکے واپس کیا جائے تو اس سے فروخت کنندگان اور دوسرے خریداروں کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: احمد آباد: گربا پروگرام سے مسلمانوں کو نکل جانے کا حکم؛ گلوکار آدتیہ گڑھوی نے خود کو اس سے الگ کرلیا

سوشل میڈیا صارفین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ واپسی کی سہولت کے ممکنہ غلط استعمال کے نتیجے میں ای کامرس پلیٹ فارم ریٹرن کی مدت محدود کرسکتے ہیں یا کپڑوں کی واپسی پر مزید سخت جانچ متعارف کراسکتے ہیں۔ ایسی تبدیلیوں کا اثر ان صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے جنہیں حقیقی وجوہات کی بنا پر سامان واپس کرنا پڑتا ہے۔ فی الحال، اس وائرل ویڈیو کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ منترا یا دیگر کمپنیوں نے نوراتری کے بعد واپسیوں میں اضافے کے باعث اپنی پالیسی تبدیل کرنے یا مالی نقصان کا کوئی مخصوص اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK