Inquilab Logo Happiest Places to Work

قومی کمیشن برائے اقلیت کو ۲۰۲۱ء سے اب تک سب سے زیادہ شکایات مسلم برادری سے ملیں

Updated: August 03, 2026, 8:31 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ قومی کمیشن برائے اقلیتوں (این سی ایم) کو مالی سال ۲۲۔۲۰۲۱ء سے ۲۶۔۲۰۲۵ء کے درمیان مجموعی طور پر ۹۵۵۷؍ شکایات موصول ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ ۶۱۴۵؍ شکایات مسلم برادری کی جانب سے درج کرائی گئیں۔ حکومت کے مطابق شکایات تعلیم، قانون و نظم، اراضی تنازعات، مذہبی حقوق، معاشی مسائل اور دیگر معاملات سے متعلق تھیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا ہے کہ قومی کمیشن برائے اقلیتوں (نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز) کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سب سے زیادہ شکایات مسلم برادری کی جانب سے موصول ہوئیں۔ وزارتِ اقلیتی امور کی جانب سے راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال ۲۲۔۲۰۲۱ء سے ۲۶۔۲۰۲۵ء تک کمیشن کو مجموعی طور پر ۹۵۵۷؍ شکایات موصول ہوئیں، جن میں ۶۱۴۵؍ شکایات مسلمانوں نے درج کرائیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسی مدت میں سکھ برادری کی جانب سے ۱۲۲۲ ، عیسائی برادری کی جانب سے ۶۴۴، بدھ برادری کی جانب سے ۵۵۳، جین برادری کی جانب سے ۵۱۲؍ اور پارسی برادری کی جانب سے نسبتاً کم شکایات درج کی گئیں۔ حکومت نے بتایا کہ کمیشن کو مختلف اقلیتی برادریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات میں تعلیم، قانون و نظم، اراضی تنازعات، مذہبی حقوق، معاشی معاملات، سرکاری اداروں سے متعلق مسائل اور دیگر انتظامی امور شامل تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بریج بھوشن شرن سنگھ خاتون پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کیس میں بری

وزارتِ اقلیتی امور نے ایوانِ بالا کو یہ بھی بتایا کہ سال بہ سال شکایات کی تعداد میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ مالی سال ۲۲۔۲۰۲۱ء میں مجموعی طور پر ۲۰۷۶؍ شکایات موصول ہوئیں، جو ۲۳۔۲۰۲۲ء میں بڑھ کر ۲۴۲۳؍ ہوگئیں۔ اس کے بعد ۲۴۔۲۰۲۳ء میں یہ تعداد ۱۹۹۹، ۲۵۔۲۰۲۴ء میں ۱۳۹۰؍  اور ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ۱۶۹۹؍ رہی۔ حکومت کے مطابق یہ تمام شکایات کمیشن کے مقررہ طریقہ کار کے تحت متعلقہ حکام کو بھیجی گئیں یا ان پر ضروری کارروائی کی گئی۔ 

مسلم برادری کی شکایات کے سالانہ اعداد و شمار بھی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے۔ ان کے مطابق ۲۲۔۲۰۲۱ء میں ۳۷۸، ۲۳۔۲۰۲۲ء میں ۳۸۶، ۲۵۔۲۰۲۴ء میں ۴۱۵؍ اور ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ۵۷۷؍ شکایات مسلمانوں کی جانب سے درج کرائی گئیں۔ مجموعی پانچ سالہ مدت میں مسلمانوں کی شکایات کی تعداد دیگر تمام اقلیتی برادریوں سے زیادہ رہی۔ ریاستوں کے اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش سے سب سے زیادہ ۳۴۸۴؍ شکایات موصول ہوئیں۔ اس کے بعد دہلی سے ۱۱۴۰، مہاراشٹر سے ۶۹۰، پنجاب سے ۵۱۲، تلنگانہ سے ۳۹۲، مدھیہ پردیش سے ۳۸۱؍ اور ہریانہ سے ۳۲۴؍ شکایات درج کی گئیں، جبکہ باقی شکایات دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے موصول ہوئیں۔

یہ بھی پڑھئے: وندے بھارت کے ذریعے پہلی مرتبہ سورت سے احمد آبادایک زندہ دل کی کامیاب منتقلی

وزارت نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ قومی کمیشن برائے اقلیتوں موصول ہونے والی شکایات کو ’’حتی الامکان جلد‘‘ نمٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ کمیشن کی ذمہ داری اقلیتی برادریوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ سے متعلق شکایات کا جائزہ لینا، متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرنا اور ضرورت پڑنے پر مناسب سفارشات کرنا ہے۔ یاد رہے کہ قومی کمیشن برائے اقلیتوں کا قیام قومی کمیشن برائے اقلیت ایکٹ ۱۹۹۲ء کے تحت عمل میں آیا تھا۔ ابتدا میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، بدھ مت کے پیروکاروں اور پارسی برادری کو اقلیتی برادری کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا، جبکہ ۲۷؍ جنوری ۲۰۱۴ء کو جین برادری کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ کمیشن کا بنیادی مقصد آئین اور پارلیمنٹ و ریاستی اسمبلیوں کے منظور کردہ قوانین کے تحت اقلیتوں کو حاصل حقوق اور تحفظات کی نگرانی کرنا ہے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی شکایات کے ازالے کے لیے پہلے متعلقہ ریاستی اقلیتی کمیشن یا دیگر مجاز سرکاری اداروں سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگر وہاں سے مناسب ازالہ نہ ہو تو وہ قومی کمیشن برائے اقلیتوں سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں ہر شکایت کا جائزہ مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق لیا جاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK