سنیل تٹکرے نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ خاتون رکن اسمبلی کا ایوان میں دیا گیا بیان پارٹی کا موقف نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 10:35 AM IST | Mumbai
سنیل تٹکرے نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ خاتون رکن اسمبلی کا ایوان میں دیا گیا بیان پارٹی کا موقف نہیں ہے۔
مہاراشٹر کی حکمراں مہایوتی اتحاد کی اہم حلیف این سی پی( اجیت) نے ریاستی اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران اپنی رکن اسمبلی ثنا ملک کی جانب سے تین طلاق اور اسلامی قوانین سے متعلق دیئے گئے متنازع بیان سے باضابطہ طور پر لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔ این سی پی کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے نےایک بیان جاری کرکے واضح کیا کہ ثنا ملک کی جانب سے اسمبلی میں پیش کئے گئے خیالات ان کی ذاتی رائے ہیں اور پارٹی کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔
انہوں نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کے دوران رکن اسمبلی ثنا ملک نے تین طلاق سے متعلق جو بیان دیا، وہ ان کی ذاتی رائے ہے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔ یہ تنازع ۲۳؍ جون کو یکساں سول کوڈ پر ہونے والی بحث کے دوران اس وقت پیدا ہوا جب ثنا ملک نے اسلامی قوانین سے متعلق کچھ تبصرے کئے، جن پر اپوزیشن کے علاوہ حکمراں اتحاد کی بعض جماعتوں، خصوصاً بی جے پی، کی جانب سے بھی اعتراضات سامنے آئے۔ سنیل تٹکرے نے کہا کہ این سی پی شاہو، پھلے اور امبیڈکر کے نظریات پر یقین رکھتی ہے اور ہندوستانی آئین کے اصولوں کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین ہی حتمی حیثیت رکھتے ہیں اور پارٹی ان پر مکمل عمل درآمد کی حامی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بارش پھر رُوٹھ گئی، پیر تک انتظار
انہوں نے مزید کہا کہ این سی پی ذات، مذہب یا مسلک سے بالاتر ہو کر خواتین کے حقوق کے تحفظ کی حامی ہے اور شادی کے خاتمے کے ایسے تمام طریقوں کی مخالفت کرتی ہے جو خواتین کے ساتھ غیر منصفانہ یا من مانے سلوک کا باعث بنتے ہوں۔سنیل تٹکرے نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ثنا ملک کو ایک منتخب عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے آئینی طور پر اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے، تاہم ان کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، پارٹی کا مؤقف نہیں۔ ادھر ثنا ملک پہلے ہی یہ وضاحت کر چکی ہیں کہ اسمبلی میں ہونے والی گرما گرم بحث کے دوران ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ وہ صرف دیگر اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دے رہی تھیں۔