امریکہ نے ایک ہی دن میں تین قیدیوں کو مہلک انجیکشن دے کر سزائے موت دے دی، جبکہ روا ں سال میں مجموعی طور پر۲۲؍ ہلاکتیں ہوئیں۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 8:04 PM IST | Washington
امریکہ نے ایک ہی دن میں تین قیدیوں کو مہلک انجیکشن دے کر سزائے موت دے دی، جبکہ روا ں سال میں مجموعی طور پر۲۲؍ ہلاکتیں ہوئیں۔
امریکہ نے ایک ہی دن میں تین مہلک انجیکشن کے ذریعے پھانسیاں دیں، جس سے ملک میں سال ۲۰۲۶ءکے دوران سزائے موت پانے والوں کی تعداد۲۲؍ ہو گئی، حالانکہ عالمی سطح پر سزائے موت کے حوالے سے بحث جاری ہے۔بعد ازاں امریکہ نے جمعرات کو تین پھانسیاں دیں، جن میں اوکلاہوما، ٹینیسی اور الاباما میں سزا یافتہ قاتلوں کو مہلک انجیکشن کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ واضح رہے کہ یہ۱۵؍ سال سے زیادہ عرصے میں ایک ہی دن ملک بھر میں دی گئی پھانسیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برازیل نے امریکی ٹیرف کا جوابی ٹیرف قانون فعال کردیا، فوری اقدامات سے گریز
ٹینیسی محکمہ اصلاحات کے مطابق،۶۶؍ سالہ انتھونی ہائینز کو نیشویل کی حفاظتی جیل میں مارچ ۱۹۸۵ء میں۵۴؍ سالہ ہوٹل کی ملازمہ اور چار بچوں کی ماں کیتھرین جینکنز کے قتل کے جرم میں پھانسی دی گئی۔ہائینز کی پھانسی ٹینیسی میں اس وقت کے بعد پہلی تھی جب مئی میں حکام نے ایک اور سزائے موت یافتہ قیدی کو پھانسی دینے کا طریقہ کار روک دیا تھا، کیونکہ طبی عملے کو مناسب رگ نہیں مل سکی تھی۔لہٰذا اوکلاہوما میں،۷۰؍ سالہ کارلوس کویسٹا روڈریگز کو میک ایلسٹر کی ریاستی جیل میں مہلک انجیکشن دے کر سزائے موت دے دی گئی۔ ریاست کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے بتایا کہ حکام نے اسے۲۰۲۳ء میں اس کی غیر رسمی بیوی اولمپیا فشر کے قتل کے جرم میں سزائے موت دی۔
اس کے علاوہ الاباما نے بھی جمعرات کو ایک پھانسی دی۔جب حکام نے۴۲؍ سالہ جیریمی ولیمز کو ۲۰۲۱ءمیں پانچ سالہ ہالینڈ کی عصمت دری اور قتل کے جرم میں پھانسی دی۔ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق، یہ تینوں سزائے موت ۲۰۱۰ء کے بعد ایک ہی دن امریکہ میں دی جانے والی سب سے زیادہ تعداد ہیں۔ ملک میں اس سال اب تک۲۲؍ سزائے موت درج کی گئی ہیں، جن میں فلوریڈا میں۱۲؍، ٹیکساس میں چار، اوکلاہوما میں تین، اور ایریزونا، ٹینیسی اور الاباما میں ایک ایک شامل ہیں۔جبکہ امریکہ میں آخری بار۷؍ جنوری۲۰۱۰ء کو ایک ہی دن تینسزائے موت دی گئی تھیں، جب لوزیانا، اوہائیو اور ٹیکساس نے قیدیوں کو پھانسی دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا کی حقوقِ انسانی تنظیموں کا یوگی آدتیہ ناتھ و دیگرکے خلاف پابندی کا مطالبہ
یاد رہے کہ سزائے موت امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں قانونی ہے۔۵۰؍ ریاستوں میں سے۲۳؍ نے سزائے موت کو ختم کر دیا ہے، جبکہ کیلیفورنیا، اوریگون اور پنسلوانیا نے پھانسیوں پر روک لگا رکھی ہے۔مہلک انجیکشن سزائے موت کا مرکزی طریقہ ہےگزشتہ سال امریکہ میں ۳۹؍ سزائے موت مہلک انجیکشن کے ذریعے دی گئیں۔ تین قیدیوں کو فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پانچ دیگر کو نائٹروجن ہائپوکسیا کے ذریعے موت کی سزا دی گئی، جو ایک ایسا طریقہ ہے جس میں چہرے کے ماسک کے ذریعے نائٹروجن گیس پہنچائی جاتی ہے اور قیدی دم گھٹنے سے ہلاک ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے نائٹروجن گیس سے پھانسی کو سزائے موت کی ایک غیر انسانی شکل قرار دیا ہے۔امریکہ میں گزشتہ سال۴۷؍ سزائے موت درج کی گئیں، جو۲۰۰۹ء کے بعد سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے جب حکام نے۵۲؍ قیدیوں کو پھانسی دی تھی۔تاہم صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی سزائے موت کے استعمال میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔تازہ ترین پھانسیاں ایسے وقت میں دی گئیں جب لبنان نے سزائے موت کو ختم کر دیا۔ اس اقدام سے لبنان وہ۱۱۳؍ واں ملک بن گیا جس نے قانونی طور پر تمام جرائم کے لیے سزائے موت کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ بعد ازاں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی عالمی رپورٹ ’’سزائے موت اور پھانسی۲۰۲۵ء‘‘ کے مطابق، ایران نے۲۰۲۵ء میں۲۱۵۹؍ سے زیادہ پھانسی دیں۔ یہ تعداد ایران کی۱۹۸۱ء کے بعد سالانہ پھانسیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ جبکہ سعودی عرب نے اسی عرصے میں۳۵۶؍ پھانسی دیں۔