Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان: ۲۰۲۴ء میں جہیز کے سبب ۵۷۳۷ ہلاکتیں؛ ہر ۹۰ منٹ میں ایک خاتون کی موت: این سی آر بی رپورٹ

Updated: May 23, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi

این سی آر بی کے ذریعے جاری کردہ رپورٹ بعنوان’کرائم ان انڈیا ۲۰۲۴ء‘ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جہیز سے ہونے والی اموات میں بتدریج کمی آئی ہے۔ تاہم، جہیز کے مطالبات اور ازدواجی تشدد سے جڑے معاملات میں ہر سال ہزاروں خواتین کی اموات کا سلسلہ اب بھی برقرار ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں ۲۰۲۴ء کے دوران جہیز کی وجہ سے ۵۷۳۷ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جہیز کیلئے ہراساں کئے جانے، گھریلو تشدد، خودکشی یا شادی سے جڑی مشکوک اموات کے باعث روزانہ ۱۶ خواتین یا ہر ۹۰ منٹ میں ایک خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔

۶ مئی کو این سی آر بی کے ذریعے جاری کردہ رپورٹ بعنوان’کرائم ان انڈیا ۲۰۲۴ء‘ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برسوں کی قانونی پابندیوں اور بیداری مہموں کے باوجود، ملک بھر میں جہیز سے جڑا تشدد بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی کے دوران جہیز سے ہونے والی اموات میں بتدریج کمی آئی ہے۔ ۲۰۱۵ء میں جہیز سے جڑے معاملات ۷۶۳۴ سے بتدریج کم ہو کر ۲۰۲۴ء میں ۵۷۳۷ ہوگئے ہیں۔ تاہم، جہیز کے مطالبات اور ازدواجی تشدد سے جڑے معاملات میں ہر سال ہزاروں خواتین کی اموات کا سلسلہ اب بھی برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت خاتون صحافیوں کے خلاف بدسلوکی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے: یو این کی رپورٹ میں انکشاف

این سی آر بی نے جہیز ممنوعہ ایکٹ (Dowry Prohibition Act) کے تحت درج مقدمات میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ ۲۰۲۳ء میں کل ۱۵۴۸۹ معاملات رجسٹرڈ ہوئے جبکہ ۲۰۲۲ء میں یہ تعداد ۱۳۴۷۹ تھی۔ اس طرح ان معاملات کی تعداد میں ۲۰۲۳ کے مقابلے ۱۴ فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ۲۰۲۴ء میں ملک بھر میں ”شوہر اور رشتہ داروں کی طرف سے ظلم و ستم“ کے ایک لاکھ ۲۰ ہزار سے زائد معاملات رپورٹ کئے گئے۔ اس زمرے میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مستقل طور پر سالانہ ایک لاکھ سے زائد معاملات سامنے آرہے ہیں۔

قومی دارالحکومت دہلی میں مسلسل پانچویں سال جہیز سے ہونے والی اموات کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی۔ یہاں ۲۰۲۴ء کے دوران ۱۱۱ اموات اور ۱۰۹ معاملات رپورٹ کئے گئے، جبکہ ۲۰۲۳ء میں ۱۱۴ معاملات اور کووڈ کے دور میں ۲۰۲۱ء کے دوران ۱۳۶ معاملات سامنے آئے تھے۔ کانپور میں ۵۴ معاملات جبکہ بنگلورو میں ۲۵ معاملات پیش آئے۔ اس کے برعکس، کوچی اور چنئی میں ۲۰۲۴ء میں جہیز کے سبب موت کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی میں ’امید‘پورٹل پر درج کرائی گئیں وقف کی ۳۱؍ہزار املاک مسترد

ریاستی سطح پر، اتر پردیش میں جہیز سے جڑی اموات کے سے زیادہ یعنی ۲۰۳۸ واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ یہ تعداد، ملک بھر کی مجموعی اموات کی تعداد کے ایک تہائی سے بھی زیادہ ہے۔ دوسرے نمبر پر بہار ہے جہاں ۱۰۷۸ معاملات سامنے آئے۔ مدھیہ پردیش میں ۴۵۰ اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ راجستھان اور مغربی بنگال میں بالترتیب ۳۸۶ اور ۳۳۷ معاملات ریکارڈ کئے گئے۔

رپورٹ میں ”جہیز کی وجہ سے قتل“ (dowry murder) کے معاملات کو بھی دستاویزی شکل دی گئی ہے، جن میں جہیز کے تنازعات پر براہِ راست مہلک تشدد شامل ہے۔ مغربی بنگال میں ۲۰۲۴ء میں ایسے ۱۶۳ معاملات ریکارڈ کئے گئے، جس کے بعد ادیشہ ۱۶۱ معاملات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ راجستھان میں ۷۵ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ بہار اور اتر پردیش میں بالترتیب ۶۶ اور ۵۸ معاملات ریکارڈ کئے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ناقابل یقین واقعہ، شیر کے حملے میں ایک ساتھ ۴؍ خواتین کی موت

واضح رہے کہ بھارتیہ نیاۓ سنہتا کی دفعہ ۸۰ (سابقہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ ۳۰۴ ب) کے تحت، کسی موت کو اسی صورت میں ’جہیز کی وجہ سے موت‘ قرار دیا جاتا ہے اگر کوئی خاتون شادی کے ۷ سال کے اندر غیر قدرتی حالات میں دم توڑ جائے اور اس بات کے شواہد موجود ہوں کہ موت سے کچھ عرصہ قبل اسے جہیز کے مطالبات کے سلسلے میں ظلم یا ہراسانی کا سامنا تھا۔

جہیز کی وجہ سے اموات کا معاملہ حال ہی میں تویشا شرما کی موت کے بعد دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے جن کے اہل خانہ نے سسرال والوں کی طرف سے جہیز کیلئے ہراساں کئے جانے اور تشدد کا الزام لگایا تھا۔ اس سال کے شروع میں، ایک خاتون کمانڈو کو بھی مبینہ طور پر اس کے شوہر نے بار بار جہیز کے مطالبات کے سلسلے میں قتل کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK