Updated: October 27, 2026, 10:07 PM IST
| Washington
دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ انتھروپک کو رواں سال کی پہلی ششماہی میں ۸۰ ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ ۲۰۲۵ء کے اسی عرصے کے دوران ۱۳ ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ کمپنی کی ۳ء۱۶ ارب ڈالر کی آمدنی کا پانچواں حصہ صرف دو کلائنٹس سے حاصل ہوا۔ دستاویزات کا ایک بڑا حصہ یعنی تقریباً ۹۴ صفحات، اے آئی سے جڑے خطرے کے عوامل کیلئے وقف ہے۔ انتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ اس کے اے آئی سسٹمز ”انسانیت کیلئے تباہ کن یا انسانی بقاء کے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان کی معروف کمپنی انتھروپک اپنا آئی پی او لانے کی تیاری کررہی ہے۔ اس سلسلے میں کمپنی نے اپنے دستاویزات جمع کروائے ہیں جس کے مطابق اس کی مالیت ۸ء۱ کھرب ڈالر لگائی جا سکتی ہے۔ سان فرانسسکو میں قائم کمپنی کے دستاویزات نے بھاری مالی نقصانات اور اپنی ہی ٹیکنالوجی کے خطرات سے متعلق جامع انتباہات دونوں کو عیاں کیا ہے۔
دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ انتھروپک کو رواں سال کی پہلی ششماہی میں ۸۰ ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ ۲۰۲۵ء کے اسی عرصے کے دوران ۱۳ ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ کمپنی کی ۳ء۱۶ ارب ڈالر کی آمدنی کا پانچواں حصہ صرف دو کلائنٹس سے حاصل ہوا۔ کمپنی نے تسلیم کیا کہ مستقبل کی آمدنی کا ”اہم حصہ“ محدود تعداد میں کلائنٹس پر منحصر رہنے کا امکان ہے۔ انتھروپک کمپیوٹنگ کی صلاحیت کو وسعت دینے کیلئے ۷۵۰ ارب ڈالر خرچ کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے، جس میں اگلے ۷ سے ۱۰ برسوں کے دوران زیادہ تر ناقابلِ منسوخ کلاؤڈ کمپیوٹنگ معاہدوں کی مد میں ۴۵۰ ارب ڈالر شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں مائیکروسافٹ کو ”اصل استعمال سے قطع نظر“ کلاؤڈ کی صلاحیت کیلئے ۳۱ ارب ڈالر کا عزم بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک کے پارک میں ۸۹؍ ہزار ڈالر کا اے آئی روبوٹ، انسانوں سے میل جول کی تربیت
اے آئی سے جڑے خطرات کے مفصل انکشافات
دستاویزات کا ایک بڑا حصہ یعنی تقریباً ۹۴ صفحات، اے آئی سے جڑے خطرے کے عوامل کیلئے وقف ہے۔ انتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ اس کے اے آئی سسٹمز ”انسانیت کیلئے تباہ کن یا انسانی بقاء کے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ایسے سسٹمز کا غلط استعمال کیا جائے، نقل تیار کی جائے، ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے، یا انہیں اعلیٰ درجے کی خود مختاری کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔“ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ماڈلز پہلے ہی لوگوں کو ”کیمیائی، حیاتیاتی یا دیگر خطرناک ہتھیار تیار کرنے“ میں مدد فراہم کرنے کی صلاحیت ظاہر کر چکے ہیں۔ کمپنی نے حفظانِ صحت، مالیات اور حکومتی فیصلہ سازی جیسے حساس شعبوں میں ان کے خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک کے گروک نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ’ ’اوڈیسی‘‘ کی پہلی قسط جاری کی
کمپنی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کے ماڈلز ”ناپسندیدہ نتائج پیدا کرکے یا غیر ارادی، بے قابو، یا خود مختار طریقوں سے عمل کرکے خود نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔“ اس نے مزید کہا کہ جیسے جیسے اے آئی ماڈلز مزید خود مختاری حاصل کریں گے اور بیرونی سسٹمز کے ساتھ مربوط ہوں گے، یہ خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ انتھروپک نے کہا کہ کمپنی اس بات کا مطالعہ جاری رکھے ہوئے ہے کہ ایسے رویے کیوں جنم لیتے ہیں لیکن وہ ”مستقبل میں ایسے رویوں کا اندازہ لگانے یا انہیں سمجھنے سے قاصر ہو سکتی ہے۔“ دستاویزات میں اس بات کی بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ ذہنی صحت اور ادراکی نشوونما پر اے آئی کے ساتھ مسلسل تعامل کے طویل مدتی اثرات کو ابھی تک بخوبی سمجھا نہیں جا سکا ہے۔
ان سنگین انتباہات کے باوجود، دستاویزات میں سائنسی دریافتوں کو تیز تر بنانے میں اے آئی کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے اور کینسر، الزائمر اور دل کی بیماریوں جیسی بیماریوں کے علاج میں ممکنہ مدد کا حوالہ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت اگلے۲۰؍ برسوں میں معاشی و سماجی اتھل پتھل پیدا کر سکتی ہے: بل گیٹس
وسیع تر صنعتی تناظر
آئی پی او کیلئے انتھروپک کی فائلنگ اے آئی کے شعبے میں وسیع تر بے چینی اور اتھل پتھل کے درمیان سامنے آئی ہے۔ برطانیہ میں اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کے آپریٹر این اسکیل (Nscale) کو ملک کے ڈیٹا سینٹر منصوبے سے مائیکروسافٹ کے دستبردار ہونے سے دھچکا لگا ہے، حالانکہ وہ انتھروپک کے ساتھ ۴۵ ارب ڈالر کے سپلائی معاہدے کی کوشش کر رہا تھا۔ دریں اثناء، کیلیفورنیا پبلک ایمپلائز ریٹائرمنٹ سسٹم (CalPERS) نے اے آئی کی قیمتوں کے تخمینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایپل، مائیکروسافٹ، اینویڈیا اور میٹا سمیت بڑی ٹیک کمپنیوں میں اپنے حصص کم کرنے کا اعلان کیا۔ علیحدہ طور پر، میٹا نے اپنے انفراسٹرکچر پر اخراجات کا ہدف بڑھا کر تقریباً ۸۲۵ ارب ڈالر کر دیا ہے۔ بارکلیز نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی ۵۰۰۰ ملازمتوں کے خاتمے کا سبب بنے گی۔